آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 73 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 73

143 142 مجھے اس ہر وقت کے درد سے نجات دیں۔پہلے جس ڈاکٹر کے پاس گیا تھا، اس نے دیکھ کر یہی کہا کہ نکلوا دینے کے سوا اس دُکھ کا کوئی علاج نہیں۔نکلوا کر اس کی جگہ مصنوعی شیشے کی آنکھ ڈالوالینا۔“ (83) حکمتیں اور میرا پیگنڈا جب میں لاہور میں ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کر رہا تھا تو وہاں ایک واضح ہو کہ عموماً ایسی آنکھ میں بظاہر کوئی عیب نظر نہیں آتا بلکہ دیکھنے مشہور حکیم بزرگ شاہ تھے جو دوا اور تعویذ دونوں سے بیک وقت اپنے مریضوں والوں کو وہ ایسی ہی تندرست دکھائی دیتی ہے جیسے دوسری بینا آنکھ۔کا علاج کیا کرتے تھے۔مثلاً بیمار کو قبض اور اس کے عوارض ہیں تو کوئی جو شاندہ خیر مریض کو داخل شفاخانہ کر کے دوسرے دن اُسے کلورا فارم سے بے بھی لکھ دیا کرتے تھے اور ساتھ ہی ایک تعویذ بھی دیا کرتے تھے کہ اسے پانی ہوش کر دیا گیا۔مگر غلطی یہ ہوئی کہ اس کے ٹکٹ پر اُس سے پوچھ کر یہ نوٹ نہیں میں مل کر پی لینا۔اور حکمت اس کی یہ تھی کہ دوات کی سیاہی میں انہوں نے کیا گیا کہ دائیں آنکھ اندھی ہے یا بائیں؟ دیکھنے میں بظاہر دونوں یکساں تھیں۔روغن جمال گوٹہ ملا رکھا تھا۔جب اس طرح کی سیاہی سے لکھے ہوئے تعویذ کو بے ہوش کرنے کے بعد جب ڈاکٹر نے آپریشن کرنا چاہا تو اُس نے کمپاؤڈر مریض پانی میں گھول کر پیتے تھے تو اُن کو قبض کشائی ہو جاتی تھی بلکہ کھل کر سے پوچھا کہ کونسی آنکھ اندھی ہے؟“ اس نے جواب دیا کہ ”مجھے معلوم نہیں۔دست آجاتے تھے۔لیکن عام لوگ اسے تعویذ کا اثر ہی سمجھتے تھے۔غالبا بائیں میں درد کہتا تھا۔اور وہی اندھی ہو گی۔“ ڈاکٹر نے خود بھی دیکھا مگر اسی طرح ایک اور حکیم صاحب تھے انہوں نے اشتہار دیا کہ کونین دونوں آنکھوں میں کوئی فرق نہ پایا۔کیونکہ کرونک گلا کوما میں اکثر ایسا ہوتا ہے سخت گرم چیز ہے۔کلیجہ پھونک دیتی ہے اور غیر ملک کی پیدوار ہے۔اس لئے کہ پتہ نہیں لگتا جب تک مریض خود نہ بتائے۔بہر حال کمپاؤڈر کی رپورٹ اور ہم نے بہت لمبے تجربہ کے بعد ایک دوا دارین تیار کی ہے جس میں یہ خرابیاں غلط اندازہ کی بنا پر اُس کی بائیں آنکھ نکال دی گئی۔یعنی وہ آنکھ جس میں سے اور نقائص بالکل نہیں ہیں۔اور کونین سے زیادہ مفید ثابت ہوئی ہے۔حالانکہ وہ نظر آتا تھا۔آپریشن ہو چکا۔پٹی بائیں آنکھ پر باندھ دی گئی اور بیمار کو اپنے بستر دوا بھی کو نین ہی تھی۔صرف بدل کر ہم معنی نام رکھ دیا تھا۔کونین کے معنی عربی پر پہنچا دیا گیا۔مگر آپ اُس دکھ اور آہ فغاں کا اندازہ نہیں کر سکتے جو اُس مریض میں ہیں دونوں جہان۔دارین کے معنی بھی یہی ہیں۔پس جھوٹ بھی نہ ہوا اور نے برپا کیا۔جب ہوش میں آکر اس کو یہ معلوم ہوا کہ درد والی آنکھ تو سلامت لوگوں کو دھو کہ بھی دے لیا۔یہ تو صرف دو مثالیں ہیں۔مگر ایسے بہت سے ہے۔اور اُس کا درد بھی اُسی طرح موجود ہے۔مگر اُس کی زندگی اور روشنی کا شعبدے چٹے بٹے معالجوں کے بائیں ہاتھ کا کرتب ہیں۔چنانچہ ایسپرین جیسی سہارا یعنی بائیں آنکھ ہمیشہ کے لئے اس سے جدا ہو چکی ہے۔ڈاکٹر کو بھی سخت سستی اور مفید دوا طرح طرح کے ناموں سے لاکھوں روپیہ کی آمدنی کا ذریعہ رنج تھا مگر کمان سے تیر نکل چکا تھا۔ایک ذرا سی غلطی کا خمیازہ یہ ہوا کہ ایک بنی ہوئی ہے۔ماء اللحم دو آتشہ اور سہ آتشہ کے نام سے وہسکی اور برانڈی ملا کر شخص کی زندگی تا بمرگ تیرہ و تار ہو گئی۔یہ ہے خدائی تقدیر! یا بندہ کی مفرح شربت اور مقوی عرق بیچے جاتے ہیں۔اور حلال طیب نبیذ کے نام سے کئی ناواقف مسلمان حرام اور ام الخبائث شراب کو خریدتے اور استعمال کرتے غفلت۔۔۔!!