آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 18
33 32 کیا حال ہے؟ ڈاکٹر صاحب بولے۔حال کیا ہے پلیگ ہو گئی ہے موت نہیں بچوں گا۔“ سر پر کھڑی ہے ایک سو چھ بخار ہے۔دونوں طرف ران میں گلٹیاں نمودار ہیں سر پھٹا جاتا ہے عقل کچھ کام نہیں کرتی۔ہائے مرا ہائے مرا۔سول سرجن صاحب نے چہرہ دیکھا تو کوئی تغیر نہ پایا نبض دیکھی تو تندرستوں جیسی و (14) عورت کی وفاداری روجھان ضلع ڈیرہ غازی خاں کا ذکر ہے کہ ایک دن ایک جوان بدن ٹھنڈا بخار کی کوئی علامت نہیں تھرما میٹر جھٹک کر اتارا پھر نوکر سے دھلوا عورت جس کی گود میں شاید دو سال کی ایک لڑکی تھی شفا خانہ میں آئی۔اُس کر منگایا۔تو وہی ایک سو چھ (106) یہ کیا؟ ارے بدھو تھرما میٹر کہاں کے گلے میں بڑا سا گھیگہ جسے پنجابی میں گلہڑ اور انگریزی میں (Goitre) دھوتا ہے؟ حضور غسل خانہ میں جو گرم پانی کا بمبا ہے اُس کی ٹونٹی سے کہتے ہیں موجود تھا۔ایک مرد بھی اُس کے ساتھ تھا۔اُس نے کہا ” یہ عورت بیوہ دھوتا ہوں“۔”اچھا ذرا گڑوی میں ٹھنڈا پانی تو لے آ۔جب اس پانی سے ہے میں اس کا عزیز ہوں اور یہ اپنے گھیگہ کا آپریشن کرانے آئی ہے۔صرف دھو کر اور جھٹک کر لگایا اور دیکھا گیا تو 98 یعنی نارمل بات تیری پلیگ کی بدصورتی کی وجہ سے ورنہ اسے تکلیف کوئی نہیں ہے“۔میں نے اُس عورت کو ایسی کی تیسی غسل خانہ میں بمبا جا کر دیکھا تو اس کا پانی سخت گرم تھا۔اب شفا خانہ میں داخل کر لیا اور دوسرے یا تیسرے دن اُس کا آپریشن کر کے وہ پتہ لگا کہ یہ بمبے کے گرم پانی سے ہر دفعہ تھرما میٹر چڑھ جایا کرتا تھا۔ڈاکٹر گلہڑ نکال دیا۔آپریشن نے زیادہ وقت لیا اور خون بھی کافی نکلا۔پھر یہ کہ سخت صاحب کا مزاج واقعی کچھ کسل مند تھا مگر بخار طاعون کا بخار نہ تھا۔سول سردی کا موسم تھا چنانچہ مریضہ کو چار پانچ روز کے بعد ڈبل نمونیہ ہو گیا اور وہ سرجن صاحب ہنس پڑے۔پھر کہا کہ ”گلٹیاں تو ذرا دکھائیے۔وہاں دیکھا بھی سخت قسم کا۔خیر علاج ہوتا رہا اور وہ خدا کے فضل سے بچ گئی۔اور زخم بھی تو کچھ بھی نہ تھا صرف وہم علیہ اللعنہ تھے اور بس۔اب سر کا درد بھی جاتا رہا اچھا ہو گیا۔مگر تقریباً ایک ماہ اُس کے علاج میں لگ گیا۔جب وہ اچھی ہوئی تو اور ڈاکٹر صاحب بھی ہنس کر اُٹھ بیٹھے کہنے لگے میں بھی کتنا بے وقوف ایسی کمزور زرد رنگ اور بے رونق ہو گئی تھی جیسے مہینوں کا بیمار جوان عورت تھی مگر ہوں۔اگر آپ تشریف نہ لاتے تو میں تو مر ہی چلا تھا۔ارے نتھو رام گھر اب اُس کی خوبصورتی باقی نہ رہی تھی۔آواز میں شعف تھا اور سوکھ کر کانٹا بن گئی تھی۔مگر خیر تندرست ہو چکی تھی۔میں جو ایک دن اُس کے پاس حسب معمول تار دے دے کہ سب خیریت ہے۔مگر افسوس کہ دوسرا تار وقت پر نہ پہنچ سکا اور ڈاکٹر صاحب کی اہلیہ، بچے اور والدہ روتے پیٹتے دوسری صبح اُن کے پاس روزانہ خیریت پوچھنے گیا تو بچاری رونے لگی۔میں نے کہا ” کیا ہوا؟ کہنے لگی پہنچ گئے۔پھر ہمیں معلوم نہیں کہ وہ ڈاکٹر صاحب سے مل کر خوش ہوئے یا جو آدمی میرے ساتھ آیا تھا وہ کہتا تھا کہ ” آج شام کو میں چلا جاؤں گا“۔ان کی بے ہودگی پر لعنت ملامت کرتے رہے۔ہاں اتنا ہوا کہ پھر ڈاکٹر میں نے کہا: وہ پھر آکر تجھے لے جائے گا۔ابھی تو کمزور بھی ہے صاحب نے کسی طاعون کے مریض کو باوجود ڈبل فیس پیش ہونے کے بھی کچھ دن یہاں ٹھہر جا۔کہنے لگی وہ کہتا تھا کہ اب میں تجھے لینے نہیں آؤں نہیں دیکھا۔اور کہا کرتے تھے کہ بابا ایک دفعہ تو بچ گیا ہوں مگر اب کے " گا۔