عالمی فتنۂ تکفیر سے متعلق — Page 7
پہنچ رہے ہیں کہ پاکستان بلکہ پوری دنیائے اسلام کو تباہی کے کنارے تک پہنچانے کی ساری ذمہ داری ملاؤں پر ہے۔مولوی اب طالب دنیائے جیفہ ہو گئے۔وارث علم تمیر کا پتہ لگتا نہیں (اہل حدیث ۱۳۱ مئی ۹) یہ حقیقت جو آج کھل کہ زبانوں پر آرہی ہے دراصل مدتوں قبل خود مسلمان لیڈر اور صحافی بیان کر چکے ہیں۔مولانا ظفر علی خان کے اخبار زمیندار (۱۴ جون ۱۹۲۵ء) نے لکھا۔" ہم مسلمانوں کی اصل تباہی کا ذمہ دار ان قل اعوذی ملاؤں کو سمجھتے ہیں جنہوں نے ہمیشہ اور ہر زمانہ میں۔۔۔۔۔اپنی کمر د دوستی کا ثبوت دیا ہے " اسی طرح زمیندار ( ۱۸ جون ۱۹۱۵ء) نے اعتراف کیا کہ :۔کہتے ہیں کہ قرب قیامت میں ایک جانور دابتہ الارض کا ظہور ہوگا جو لوگوں کے شانوں یہ ہاتھ رکھ کر کافروں کو مسلمانوں سے علیحدہ کرے گا بکا فرگران لاہور و بریلی ایسے جانوروں کا ظہور ہو رہا ہے۔آیا ان مقدس چوپاؤں کو قیامت کا ڈھنڈور چی تسلیم کر لیا جائے۔پھر ہمار اگست کی اشاعت میں لکھا :۔ہ جب فضائے آسمانی میں کسی قوم کی دھجیاں اڑنے کے دن آتے ہیں تو ان کے اعیان و اکابہ سے نیکی کی توفیق چھین لی جاتی اور اس کے صاحب اثر و نفوذ افراد کی بداعمالیوں کو اس کی تباہی کا کام سونپ دیا جاتا ہے اور یہ خود اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے۔مسلمانان ہند کی شامت اعمال نے مدتہائے مدید سے جھوٹے پیروں اور جاہل مولویوں اور ریا کار زاہد وں کی صورت اختیار کہ رکھی ہے جنہیں نہ خدا کا خوف ہے نہ رسول کا پاس نہ شرع کی شرح نہ عرف کا لحاظ یہ ذی اثر طبقہ و با اقتدار طبقہ جس نے اپنے دام تزویر میں لاکھوں انسانوں کو پھنسا رکھا ہے اسلام کے نام پر ایسی ایسی گھناؤنی حرکتوں کا مرتکب ہوتا ہے کہ