عالمی فتنۂ تکفیر سے متعلق — Page 17
16 اقوال پر یہ رحلت کرے۔اور اس فتوی کی تصدیق علماء دہلی وآگرہ و حیدر آباد و بنگال نے کی۔در سالہ اشاعۃ السنہ مت جلد ۱۳) (فتوی شه) اسی طرح مولوی عبدالصمد غزنوی نے لکھا:۔کہ یہ گراہ کرنے والا چھپا مرتد ہے بلکہ وہ اپنے شیطان سے زیادہ گراہ ہے جو اس سے کھیل رہا ہے۔اگر یہ اپنے اس اعتقاد پر مر جائے تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے اور نہ یہ سلمانوں کی قبروں میں دفن کیا جائے تاکہ اہل قبور اس سے ایذا نہ پائیں " داشاعۃ السنہ جلد ۱۳ ء ، فتوی ۸۹۴ ساء میں قاضی بعید اللہ صاحب مدراسی نے یہ فتویٰ دیا کہ : وہ شرع شریف کی رو سے مرتد - زندیق و کافر ہے اور بمصداق ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے تیس دجالوں میں سے ایک ہے اور جس نے اس کی تابعداری کی وہ بھی کا فرد مرتد ہے اور شرعاً مرتد کا نکاح فسخ ہو جاتا ہے اور اس کی عورت حرام ہوتی ہے اور اپنی عورت کے ساتھ جو وطی کرے گا سو وہ زنا ہے اور ایسی حالت میں جو اولاد پیدا ہوتی ہے وہ ولد الزنا ہوتی ہے اور مرتد بغیر توبہ کے مرگیا تواس پر نماز جنازہ نہیں پڑھنا اور اس کو مقابر اہل اسلام میں دفن نہیں کرنا بلکہ بغیر غسل و کفن کے کتے کی مانند گڑھے میں ڈال دینا ہے فتوی در تکثیر منگر عروج جسمی و نزول حضرت عیسی علیہ السلام مطبوعه (۱۳) یہ محض فتاویٰ نہیں تھے بلکہ اسلام فروش ملاؤں نے اس پر سادہ مزاج مسلمانوں سے بالجبر عمل کر لیا اور حضرت بانی سلسلہ احمدیہ اور آپ کی جماعت کو غلیظ سے غلیظ تر گالیاں دلوائیں پچھنا نچہ پیر مہرعلی شاہ گولڑوی کے ایک سابق مرید کا اعتراف حق ملاحظہ ہو۔انہوں نے لکھا :- " جب طائفہ مرزائیہ امرت سر میں بہت ذلیل و خوار ہوئے جمعہ و جماعت