آخری اتمام حُجّت

by Other Authors

Page 30 of 46

آخری اتمام حُجّت — Page 30

اہل حدیث اورست تو مولوی غلام دستگیر اور مولوی اسمعیل حباب فیلینگڈ ہیں سرمومین کا قبضہ ہے جیسے نامون مہینہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں ہیں یاد کیجو۔بہر حال کرشن قادیانی کا اشتہد ہ ہو: نہ ہوئی تو میں خدا تعالی کی طرف کو نہیں یہ کسی ابہا مرادی کی بنا پیشنگوئی میست مولوی شتر اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلے بدست مولوی ثناء الہ دینا نہیں جبکہ محض دعا کے طور پر پہنے خدا سے فیصلہ چاہا ہے اور میں خدا شن راشد السلام مسلم من اتبع الہے سے آپکے پرچہ اہلحدیث میں میری سے دعا کرتا ہوں کرانے پر مالک بصیر تقدیر و جانم و خبیر ہے جویری تکذیب تفسیق کا سلسلہ جاری ہے ہمیشہ مجھے آپ اپنو اس پرچم میں دل کے حالات سے واقف ہو۔اگر یہ دعوی سیم موجود ہونیکا محض میری مرد و کرتی اور پیکر مرد دو گذاب و جال مقصد کے نام سے منسوب کرتی ہیں اور دنیا میں ہر نفس کا اترا ہو اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات نسبت شہرت دیتے ہیں کہ ہی شخص مفتری اور کذاب اور دجال ہے اور افر کرنا میرا کام ہے تو اسے میری پیاری مالی ! میں عاجزی سے تیری جنبنا اس شخص کا دعوی مسیح موعود ہونیکا سراسر افراہی مینی آپ سے بہت میں ھا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء الله ما با زندگی میں مجھے ناک کراون ہے۔جا صا کھ بٹایا اور برکت را گرم کہ میں دیکھتا ہوں کہ یں جن کے میری موی سے انکھ اوران کی جماعت کو خوش کرد و آمین بنگای میر کابل رہا چونکہ کہمیں حق پھیلانے کے لئے مامور ہوں اور آپ بہت سے افترامیری کر کے دنیا اور صادق خدا! اگر مولوی شار الشان تہمتوں میں موجہ لگاتا ہو حق پر میری طرف آنے سے روکتے ہیں اور مجھے ان گالیوں اور ان تہمتوں اور نہیں تو میں حاضری سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہمیری زندگی ان الفاظ سے یاد کرتے ہیں کہ جن سے بریکر کوئی لفظ سخت نہیں ہوتا میں ہی انکو نابود کر مگر نه انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون و صیفیه و غیر اگر میں ایسا ہی کذاب اور منتری ہوں جیسا کہ کثر اوقات آپ اپنی ہر ایک امراض مہلکہ سے بگڑا اس صورت کے کہ وہ پہلے کیلئے طور پر کہ بود پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی بلاک بھاؤنگا اور میری جماعت کے سامنے ان تمام گالیوں اور یہ زبانیں سے تو بہ رو نگو جانے سانے اور توبہ کی کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت مر نہیں ہوتی اور آخر وہ فرض نہیں بیکر ہمیشہ مجھے دکھ دیتا ہے آمین یارالی المین ده مد ذلت اور حسرت کیساتھ اپنوا شد دشمنوں کی زندگی میں بنی اکام ملک میں ان کے باتھہ سے بہت ستایا گیا اور صبر کرتارہا۔مگر اب میں دیکھتا کی میں ہی ہلاک ہو جاتا ہے اور اسکا ہلاک ہوتاہی بہترہوتا ہے تا خدا کے بندوں تباہ ہوں۔کہ ان کی مہربانی حد سے گندگئی وہ مجھے ان چوروں اور ڈاکوان ذکر سے اور اگر میں گذاب اور منقری نہیں ہوں اور غذا کو مکالمہ اور سے بھی بہت جانتی ہیں، جن کا وجود دنیا کے لئے سخت نقصان بیان مخاطبہ سے مشرف ہوں اور سیم موجود ہوں تو میں غذا کو فضل سے امید ہوتا ہے۔اور انہوں نئے ان تہمتوں اور بدر بانہوں میںانت لا تقف رکھتا ہوں۔کرسنت اللہ کے موافق آپ کذبین کی سزا سے نہیں کہینگے مالیس لك باسلام پربھی عمل نہیں کیا اور تمام دنیا سے مجھے بہت کچھ لیا بس ترجمہ پس اگر وہ سنا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محضر ضد کو ہا تھو سے اور دور دور ملکوں تک میری نسبت یہ پہلا دیا ہے کہ شیخص درحقیقت ملہ آپ اس بوری میں قرآن شریف صریح خلاف کر رہے ہیں قرآن تو کہتا ہو کہ بہ کا رد کے دل کی جوکہ کا رد کی ملکی مفسد اور ٹہنگ اور دوکاندار اور کذاب اور منظری اور نہائت در یکا طرف موصلت ملتی ہو سلوان كان في الصلالة فالمدخل الحر مدا رئيس ان انا على رئیس اور انا کی یہ آدمی ہے۔اگر ایسے کلمات حق کو طالبوں پر بد اثر نہ ڈالتی تومیں ان سو لهم لو داد و اما و اور وَيَدَهُمْ إِن تُغْيانهم ليمون اور وزیر آیات بہاری راہیں تہمتوں پر صبر کرتا۔مگرمیں دیکھتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ انہیں تم ستانے کی تکذیب کرتی ہیں اور سنو ابلا معنا مولا کی بار هُمْ حَق طال علام العرب بل کے ذرایہ سے ہیرو سلسہ کونا بود کرنا چاہتا ہو اور اس عمارت کو منہدم جن کو صاف ہیں ستر ہی کہ خداتعالی جھوٹے دغا باز مفسد او با زبان لوگوں کی نہیں کرنا چاہتا ہے جو تو نے اسے میری آنا اور سب سے بھیجنے ولا اپنے ہاتھ ہوں میں دیا کرتا ہے تا کہ وہ اس مہلت میں اور کبھی شہری کام کر لیں پھر تم کیر من بہتر بنائی ہے۔اس لٹو اب میں تیری ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر دیاکرتاہے تا وہ میں ترکیوں العمل بات یہ کہ اسی وگون کوبہت عرنہیں منی کیوں ہو دھری راستین کرشن اور محمد احمد تیری جناب میں ملتھی ہوں کہ مجھے میں اور ثناء اللہ میں کافیصد فرار ہو کہ خدائی کا ہی اور قرآن میں الیاست و ذالك بانهم من العلم اب ڈیرا اور وہ جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہو اسکو صادق کی پیارے نبی کے ت است بر که قیمت حصہ اول عمر حصہ دوم میر •