عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 84
عائلی مسائل اور ان کا حل عورتوں مردوں کی علیحدہ علیحدہ ٹیمیں بنائی جاتی ہیں۔تو جب اللہ تعالیٰ نے کہہ دیا کہ میں تخلیق کرنے والا ہوں اور مجھے پتہ ہے کہ میں نے کیا بناوٹ بنائی ہوئی ہے مرد اور عورت کی اور اس فرق کی وجہ سے میں کہتا ہوں کہ مرد کو عورت پر فضیلت ہے تو تمہیں اعتراض ہو جاتا ہے کہ دیکھو جی اسلام نے مرد کو عورت پر فضیلت دے دی۔عورتوں کو تو خوش ہونا چاہئے کہ یہ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے مرد پر زیادہ ذمہ داری ڈال دی ہے اس لحاظ سے بھی کہ اگر گھر یلو چھوٹے چھوٹے معاملات میں عورت اور مرد کی چھوٹی چھوٹی چپقلشیں ہو جاتی ہے، ناچاقیاں ہو جاتی ہیں تو مرد کو کہا کہ کیونکہ تمہارے قویٰ مضبوط ہیں ، تم قوام ہو، تمہارے اعصاب مضبوط ہیں اس لئے تم زیادہ حوصلہ دکھاؤ اور معاملے کو حوصلے سے اس طرح حل کرو کہ یہ ناچاقی بڑھتے بڑھتے کسی بڑی لڑائی تک نہ پہنچ جائے اور پھر طلاقوں اور عدالتوں تک نوبت نہ آجائے۔پھر گھر کے اخراجات کی ذمہ داری بھی مرد پر ڈالی گئی ہے“۔(جلسہ سالانہ یو کے خطاب از مستورات فرمودہ 31 / جولائی 2004ء۔مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 24 / اپریل 2015ء) اپنے اسی خطاب کے دوران حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سورۃ النساء آیت 20 کی تلاوت اور ترجمہ بیان کرنے کے بعد اس کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا:۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضٍ مَا أَتَيْتُمُوهُنَّ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ 84