عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 77 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 77

عائلی مسائل اور ان کا حل ہوئی کہ وہ اپنی بیوی سے سختی سے پیش آتا ہے۔حضور علیہ السلام اس بات سے بہت کبیدہ خاطر ہوئے، بہت رنجیدہ ہوئے ، بہت ناراض ہوئے اور فرمایا: ”ہمارے احباب کو ایسا نہ ہونا چاہئے“۔حضور علیہ السلام بہت دیر تک معاشرت نسواں کے بارہ میں گفتگو فرماتے رہے اور آخر پر فرمایا: ” میرا یہ حال ہے کہ ایک دفعہ میں نے اپنی بیوی پر آوازہ کسا تھا اور میں محسوس کرتا تھا کہ وہ بانگ بلند دل کے رنج سے ملی ہوئی ہے اور بائیں ہمہ کوئی دل آزار اور درشت کلمہ منہ سے نہیں نکالا تھا۔اس کے بعد میں بہت دیر تک استغفار کرتا رہا اور بڑے خشوع و خضوع سے نفلیں پڑھیں اور کچھ صدقہ بھی دیا کہ یہ درشتی زوجہ پر کسی پنہانی معصیت الہی کا نتیجہ ہے“۔(ملفوظات جلد اول صفحہ 307 مطبوعہ ربود) تو یہ ہیں بیویوں سے حسن سلوک کے نمونے جو آج ہمیں اس زمانے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عمل سے اپنے آقا حضرت محمد مصطفی ﷺ کی پیروی میں نظر آتے ہیں اور انہی پر چل کر ہم اپنے گھروں میں امن قائم کر سکتے ہیں“۔(خطبه جمعه فرمود: 23 / جنوری 2004 ء خطبات مسرور جلد 2 صفحہ 64 تا 65۔ایڈیشن 2005ء مطبوعه نظارت اشاعت ربوہ) 24 جون 2005ء کو انٹر نیشنل سینٹر ٹورانٹو کینیڈا میں حضور انور نے خطبہ جمعہ ارشاد فرماتے ہوئے مردوں کو عورتوں سے حسن سلوک کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ”مرد کو اللہ تعالیٰ نے قوام بنایا ہے، اس میں برداشت کا مادہ زیادہ ہوتا 77