عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 68
عائلی مسائل اور ان کا حل سی بات پر بعض رشتوں میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں۔ایک نیکی جو ہے جس کا اللہ تعالی ثواب دے رہا ہوتا ہے اُس سے محروم ہو جاتی ہیں۔اگر یہ رشتے داروں سے حسن سلوک کی نیکی رہے تو عموماً میں نے دیکھا ہے کہ گھروں میں جو رشتے برباد ہوتے ہیں، ٹوٹتے ہیں، خاوند اور بیوی کی آپس میں جو لڑائیاں ہوتی ہیں وہ نندوں اور بھابھیوں کی لڑائیاں ہیں، ساس اور بہو کی لڑائیاں ہیں۔اگر ایک دوسرے سے حسن سلوک کر رہے ہوں گے تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کسی قسم کی ایک دوسرے کے خلاف رنجشیں پید اہوں، برائیاں پیدا ہوں۔پس یہ بھی نیکیوں میں آگے بڑھنے والی مومنات کا کام ہے کہ اپنے رشتوں کا بھی پاس اور خیال رکھیں“۔(خطاب فرمودہ 17 ستمبر 2011ء بر موقع سالانہ اجتماع لجنہ اماء الله جرمنی) مختلف رشتہ داروں کا خیال رکھنے کے اسلامی حکم پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے نیز اس کی پاسداری نہ کرنے کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے مسائل میں سے عائلی مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے حضور انور ارشاد فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اپنے قریبی رشتہ داروں کا بھی خیال رکھو، ان سے بھی احسان کا سلوک کرو۔یہ حسن سلوک ہے جس سے تمہارے معاشرے میں صلح اور سلامتی کا قیام ہو گا۔قریبی رشتہ داروں میں تمام رحمی رشتہ دار ہیں، تمہارے والد کی طرف سے بھی اور تمہاری والدہ کی طرف سے بھی۔پھر بیوی کے رحمی رشتہ دار ہیں۔پھر خاوند کے رحمی رشتہ دار ہیں۔دونوں 68