عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 217
عائلی مسائل اور ان کا حل ہے، کسی بچے کو ڈانٹ رہا ہے یا کسی اور کو کچھ کہہ رہا ہے اور تمہیں صاف نظر آرہا ہو کہ وہ غلط کر رہا ہے تب بھی اُس کے سامنے اُس وقت نہ بولو۔فرمایا کہ: غصے میں مرد سے بحث کرنے والی عورت کی عزت نہیں رہتی۔اکثر جھگڑے اسی لئے بے صبری کی وجہ سے ہو رہے ہوتے ہیں کہ فور ارڈ عمل دکھاتی ہیں اور جھگڑے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔فرمایا کہ اگر غصے میں اس ٹوکنے کی وجہ سے تمہیں بھی کچھ کہہ دے تو تمہاری بڑی بے عزتی ہو جائے گی۔بعد میں جب خاوند کا غصہ ٹھنڈ ا ہو جائے تو بے شک آرام سے اُس کی غلطی کی نشاندہی کر دینی چاہئے۔اصلاح بھی فرض ہے۔مرد اور عورتوں کو یہ نسخہ بھی یاد رکھنا چاہئے جس کا حدیث میں ذکر ملتا ہے کہ غصے کی حالت میں کھڑے ہو تو بیٹھ جاؤ یا وضو کرو تو غصہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔میرے پاس جو بعض شکایات آتی ہیں تو میں مردوں کو یہی کہا کرتا ہوں کہ یہاں اس ملک میں تو پانی کی کوئی کمی نہیں۔تم اپنے شاور یا پانی کی ٹوٹی کھولا کرو اور اُس میں سر نیچے رکھ دیا کرو تو غصہ ٹھنڈا ہو جائے گا۔بہر حال حضرت اماں جان پھر اپنی بیٹی کو یہ نصیحت فرماتی ہیں کہ : خاوند کے عزیزوں کو اور عزیزوں کی اولاد کو اپنا جاننا۔جیسا کہ حدیث میں بھی ذکر آگیا ہے۔حضرت مسیح موعود کے حوالے سے بھی میں نے بات کی ہے کہ ایک دوسرے کے رحمی رشتوں کو اپنا سمجھو۔فرمایا کہ کسی کی برائی تم نہ سوچنا خواہ تم سے کوئی برائی کرے تم سب کا بھلادل میں بھی چاہنا۔تمہارے سے 217