عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 131
عائلی مسائل اور ان کا حل تو کئی باتیں ایسی بھی ہوں گی جو اچھی لگتی ہوں گی۔یہ نہیں کہ صرف ایک دوسرے میں عیب ہی عیب ہیں؟ اگر ان اچھی باتوں کو سامنے رکھو اور قربانی کا پہلو اختیار کرو تو آپس میں پیار محبت اور صلح کی فضا پیدا ہو سکتی ہے۔آپ ایم کی بیویوں کی گواہی ہے کہ آپ اللہ تم جیسے اعلیٰ اخلاق کے ساتھ بیویوں سے حسن سلوک کرنے والا کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا۔پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو نصیحت فرماتے ہیں تو صرف نصیحت نہیں فرماتے بلکہ آپ الم نے اپنے اسوہ سے بھی یہ ثابت کیا ہے“۔(خطبہ جمعہ فرموده 22 / اگست 2008ء بمقام مئی مارکیٹ منہائم جرمنی۔مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 12 ستمبر 2008ء) 31اکتوبر 2009ء کو مسجد فضل لندن میں سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دو نکاحوں کا اعلان فرمایا۔اس موقع پر سید نا حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسنونہ کی تلاوت کے بعد اپنے خطبہ میں فرمایا کہ : خطبہ ”نکاح ایک ایسا Bond ہے جو لڑکے اور لڑکی کے درمیان اللہ تعالیٰ کو گواہ ٹھہرا کر اس وعدہ کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ہم تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے ہمیشہ اپنے اس رشتہ کو نبھانے کی کوشش کریں گے۔لیکن بد قسمتی سے آج کل مغرب کا اثر ہے یا تعلیم کا اثر ہے۔برداشت کا مادہ نہ ہونے کی وجہ سے بڑی جلدی ان رشتوں میں دراڑیں پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔جبکہ قرآن کریم کی جن آیات کو پڑھا جاتا ہے ان میں اللہ تعالیٰ نے تقویٰ پر چلنے کا ذکر اور حکم 131