عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 95 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 95

عائلی مسائل اور ان کا حل کو بہانہ بنا کر ذرا ذراسی بات پر بیوی پر ظلم کرتے ہوئے اس طرح مارنے کی اجازت نہیں کہ اس حد تک مارو کہ زخمی بھی کر دو، یہ انتہائی ظالمانہ حرکت ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے ، آپ ا نے فرمایا کہ اگر کبھی مارنے کی بھی ضرورت پیش بھی آجائے تو مار اس حد تک ہو کہ جسم پر نشان نظر نہ آئے۔یہ بہانہ کہ تم میرے سامنے اونچی آواز میں بولی تھی، میرے لئے روٹی اس طرح کیوں پکائی تھی، میرے ماں باپ کے سامنے فلاں بات کیوں کی، کیوں اس طرح بولی، عجیب چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں، ان باتوں پر تو مارنے کی اجازت نہیں ہے۔پس اللہ کے حکموں کو اپنی خواہشوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش نہ کریں اور خدا کا خوف کریں۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہاری بیوی نے ایک انتہائی قدم جو اٹھایا اور تمہیں اس کو سزا دینے کی ضرورت پڑی تو یاد رکھو کہ اب اپنے دل میں کہنے نہ پالو۔جب وہ تمہاری پوری فرمانبردار ہو جائے ، اطاعت کر لے تو پھر اس پر زیادتی نہ کرو۔فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا (النساء: 35) اس پر پس اگر وہ تمہاری اطاعت کریں تو پھر تمہیں ان پر زیادتی کا کوئی حق نہیں ہے۔یقینا اللہ بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔یاد رکھو اگر تم اپنے آپ کو عورت سے زیادہ مضبوط اور طاقتور سمجھ رہے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہارے سے بہت بڑا، 95