عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 81 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 81

عائلی مسائل اور ان کا حل ہے۔اب اس کو تم ذلیل سمجھو اور گھٹیا سلوک کرو اور بہانے بنا بنا کر اس کی زندگی اجیرن کرنے کی کوشش کرو تو یہ بالکل ناجائز چیز ہے۔یا پھر پردہ کے نام پر باہر نکلنے پر ناجائز پابندیاں لگا دو۔اگر کوئی مسجد میں جماعتی کام کے لئے آتی ہے تو الزام لگا دو کہ تم کہیں اور جارہی ہو۔یہ انتہائی گھٹیا حرکتیں ہیں جن سے مردوں کو روکا گیا ہے حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے کہ تمہارا عورت سے اس کوروکا طرح سے سلوک ہو جیسے دو بچے اور حقیقی دوستوں کا ہوتا ہے۔جس طرح دو حقیقی دوست ایک دوسرے کے لئے قربانیاں کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں اس طرح مرد اور عورت کو تعلق رکھنا چاہئے کیونکہ جس بندھن کے تحت عورت اور مرد آپس میں بندھے ہیں وہ ایک زندگی بھر کا معاہدہ ہے اور معاہدے کی پاسداری بھی اسلام کا بنیادی حکم ہے۔معاہدوں کو پورا کرنے والے اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ٹھہرتے ہیں اور کیونکہ یہ ایک ایسا بندھن ہے جس میں ایک دوسرے کے راز دار بھی ہوتے ہیں اس لئے فرمایا کہ مرد کی بہت سی باتوں کی عورت گواہ ہوتی ہے کہ اس میں کیا کیا نیکیاں ہیں، کیا خوبیاں ہیں، کیا برائیاں ہیں۔اس کے اخلاق کا معیار کیا ہے؟ تو حضرت اقدس مسیح موعود فرما رہے ہیں کہ اگر مرد عورت سے صحیح سلوک نہیں کرتا اور اس کے ساتھ صلح صفائی سے نہیں رہتا، اس کے حقوق ادا نہیں کرتا تو وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کیسے ادا کرے گا، اس کی عبادت کس طرح کرے گا، کس منہ سے اس سے رحم مانگے گا؟ جبکہ وہ خود اپنی بیوی 81