عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 83
عائلی مسائل اور ان کا حل کرنے والی ہو ، میاں بیوی کے تعلقات کو خراب کرنے والی ہو ، تو عورت پر دوش دینے سے پہلے مرد اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھیں۔کیونکہ خدا تعالی نے ان کو نگران مقرر فرمایا تھا۔معلوم ہوتا ہے انہوں نے اپنی بعض ذمہ داریاں اس سلسلہ میں ادا نہیں کیں اور : بمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ (النا: 35) میں خدا تعالیٰ نے جو بیان فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہر تخلیق میں کچھ خلقی فضیلتیں ایسی رکھی ہیں جو دوسری تخلیق میں نہیں ہیں اور بعض کو بعض پر فضیلت ہے۔قوام کے لحاظ سے مرد کی ایک فضیلت کا اس میں ذکر فرمایا گیا ہے۔ہر گز یہ مراد نہیں کہ مرد کو ہر پہلو سے عورت پر فضیلت حاصل ہے۔(خطاب حضرت خلیفة المسیح الرابع بر موقع جلسہ سالانہ انگلستان۔یکم اگست 1987ء) تو، الرِّجَالُ قَوَمُوْنَ عَلَى النِّسَاء (النساء:35) کہہ کر مردوں کو توجہ دلائی گئی ہے کہ تمہیں جو اللہ تعالیٰ نے معاشرے کی بھلائی کا کام سپر د کیا ہے تم نے اس فرض کو صحیح طور پر ادا نہیں کیا۔اس لئے اگر عورتوں میں بعض برائیاں پیدا ہوئی ہیں تو تمہاری نا اہلی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں۔پھر عور تیں بھی اس بات کو تسلیم کرتی ہیں، اب بھی، اس مغربی معاشرے میں بھی، اس بات کو تسلیم کیا جاتا ہے یہاں تک کہ عورتوں میں بھی ، کہ عورت کو صنف نازک کہا جاتا ہے۔تو خود تو کہہ دیتے ہیں کہ عورتیں نازک ہیں۔عورتیں خود بھی تسلیم کرتی ہیں کہ بعض اعضاء جو ہیں ، بعض قویٰ جو ہیں مردوں سے کمزور ہوتے ہیں ، مرد کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔اس معاشرے میں بھی کھیلوں میں 83 33