عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 82
عائلی مسائل اور ان کا حل پر ظلم کرنے والا ہے۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: تم میں سے وہی اچھا ہے جو اپنے اہل سے اچھا ہے، اپنی بیوی سے اچھا ہے۔تو دیکھیں یہ ہے عورت کا تحفظ جو اسلام نے کیا ہے۔اب کو نسا مذ ہب ہے جو اس طرح عورت کو تحفظ دے رہا ہو۔اس کے حقوق کا اس طرح خیال رکھتا ہو“۔سورۃ النساء آیت 35 کی تفسیر بیان فرماتے ہوئے حضور انور نے اسی خطاب میں فرمایا کہ: " الرِّجَالُ قَوْمُونَ عَلَى النِّسَاءِ یعنی مردوں کو عورتوں پر حاکم بنایا گیا ہے۔اور پھر یہ : بمَا فَضَّلَ اللهُ ( النساء: 35) مرد کو ہر پہلو سے عورت پر فضیلت دی گئی ہے۔اس کی مفسرین نے مختلف تفسیریں کی ہیں۔لیکن ایک بہت خوبصورت تفسیر جو حضرت خلیفتہ المسیح الرابع ” نے کی ہے وہ میں تھوڑی سی بیان کر تاہوں۔فرمایا: ” کہ سب سے پہلے تو لفظ قوام کو دیکھتے ہیں۔قوام کہتے ہیں ایسی ذات کو جو اصلاح احوال کرنے والی ہو ، جو درست کرنے والی ہو، جو ٹیڑھے پن اور کبھی کو صاف سیدھا کرنے والی ہو۔چنانچہ قوام اصلاح معاشرہ کے لئے ذمہ دار شخص کو کہا جائے گا۔پس قوامون کا حقیقی معنی یہ ہے کہ عورتوں کی اصلاح معاشرہ کی اول ذمہ داری مرد پر ہوتی ہے۔اگر عورتوں کا معاشرہ بگڑنا شروع ہو جائے ، ان میں کج روی پیدا ہو جائے ، ان میں ایسی آزادیوں کی رو چل پڑے جو ان کے عائلی نظام کو تباہ کرنے والی ہو۔یعنی گھریلوں نظام کو تباہ 82