عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 72 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 72

عائلی مسائل اور ان کا حل کرتے ہوئے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: " آج کل دیکھیں ذرا ذراسی بات پر عورت پر ہاتھ اٹھا لیا جاتا ہے حالانکہ جہاں عورت کو سزا کی اجازت ہے وہاں بہت سی شرائط ہیں اپنی مرضی کی اجازت نہیں ہے۔چند شرائط ہیں ان کے ساتھ یہ اجازت ہے اور شاید ہی کوئی احمدی عورت اس حد تک ہو کہ جہاں اس سزا کی ضرورت پڑے۔اس لئے بہانے تلاش کرنے کی بجائے مرد اپنی ذمہ داریاں سمجھیں اور عورتوں کے حقوق ادا کریں جیسے کہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ : الرِّجَالُ قَوْمُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَمَا أَنْفَقُوا مِنْ اَمْوَالِهِمْ۔فَالصَّلِحْتُ قَنِتُتْ حَفِظَتْ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ الله وَالتِى تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كبيرًا - (النساء:35) یعنی مرد عورتوں پر نگران ہیں اس فضیلت کی وجہ سے جو اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر بخشی ہے اور اس وجہ سے بھی کہ وہ اپنے اموال ان پر خرچ کرتے ہیں۔(جو نکھٹو گھر بیٹھے رہتے ہیں وہ تو ویسے ہی نگران نہیں بنتے) پس نیک عورتیں فرمانبردار اور غیب میں بھی ان چیزوں کی حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں جن کی حفاظت کی اللہ نے تاکید کی ہے اور وہ عورتیں جن سے تمہیں باغیانہ رویے کا خوف ہو تو ان کو پہلے تو نصیحت کرو (اس میں 72