عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 71
عائلی مسائل اور ان کا حل کو سمجھیں، اُس بیوی کا بھی خیال رکھیں جس نے ایک لمبا عرصہ تنگی ترشی میں آپ کے ساتھ گزارا ہے۔آج یہاں پہنچ کر اگر حالات ٹھیک ہو گئے ہیں تو اس کو دھتکار دیں، یہ کسی طرح بھی انصاف نہیں ہے“۔(خطبہ جمعہ 2 جولائی 2004ء بمقام انٹر نیشنل سنٹر ، مسی ساگا کینیڈا) حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جرمنی میں چھ نکاحوں کا اعلان فرمایا تھا۔اس موقعہ پر خطبہ نکاح میں حضور انور نے ارشاد فرمایا: ”ہر احمدی کو جو حقیقی مسلمان ہے ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے کہ شادی بیاہ ایک ایسا bond (معاہدہ) ہے، ایک ایسا کام ہے جو ایک لحاظ سے دینی فریضہ بن جاتا ہے اور بیویوں اور اس کے رحمی رشتوں کے حقوق ادا کرنے بہت ضروری ہیں۔مردوں کی طرف سے بھی اور لڑکی والوں اور لڑکی کی طرف سے بھی۔پس اگر یہ چیز یہ احساس شادی کرنے والے جوڑوں میں پیدا ہو جائے بلکہ ہر شخص میں، دونوں طرف کے سسرالیوں میں بھی تو گھر یلو زندگیاں محبت اور پیار اور امن کے گہوارے بن جاتی ہیں“۔(خطبہ نکاح 18 جون 2011ء بمقام بیت السبوح فرانکفرٹ جرمنی) مرد عورتوں پر نگران ہیں مردوں کے قوام ہونے سے متعلق قرآن کریم کی تعلیم کی تفسیر بیان 71