عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 70
عائلی مسائل اور ان کا حل اور ان کی سہیلیوں سے حسن سلوک فرمایا کرتے تھے۔بے شمار مثالوں میں سے ایک یہاں دیتا ہوں۔راوی نے لکھا ہے کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خدیجہ کی بہن ہالہ کی آواز کان میں پڑتے ہی کھڑے ہو کر ان کا استقبال کرتے اور خوش ہو کر فرماتے یہ تو خدیجہ کی بہن ہالہ آئی ہے اور آپ ای ایم کا یہ دستور تھا کہ گھر میں کبھی کوئی جانور ذبح ہوتا تو اس کا گوشت حضرت خدیجہ کی سہیلیوں میں بھیجوانے کی تاکید فرمایا کرتے تھے۔(صحیح مسلم کتاب الفضائل باب من فضائل خدیجہ ) لیکن یہاں تھوڑی سی وضاحت بھی کر دوں اس کی تشریح میں۔بعض باتیں سامنے آتی ہیں جن کی وجہ سے وضاحت کرنی پڑ رہی ہے۔کیونکہ معاشرے میں عورتیں اور مرد زیادہ مکس اپ (Mixup) ہونے لگ گئے ہیں۔اس سے کوئی یہ مطلب نہ لے لے کہ عورتوں کی مجلسوں میں بھی بیٹھنے کی اجازت مل گئی ہے اور بیویوں کی سہیلیوں کے ساتھ بیٹھنے کی بھی کھلی چھٹی مل گئی ہے۔خیال رکھنا بالکل اور چیز ہے اور بیوی کی سہیلیوں کے ساتھ دوستانہ کر لینا بالکل اور چیز ہے۔اس سے بہت سی قباحتیں پیدا ہوتی ہیں۔کئی واقعات ایسے ہوتے ہیں کہ پھر بیوی تو ایک طرف رہ جاتی ہے اور سہیلی جو ہے وہ بیوی کا مقام حاصل کر لیتی ہے۔مرد تو پھر اپنی دنیا بسا لیتا ہے لیکن وہ پہلی بیوی بیچاری روتی رہتی ہے اور یہ حرکت سراسر ظلم ہے اور اس قسم کی اجازت اسلام نے قطعاً نہیں دی۔کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں شادی کرنے کی اجازت ہے یہاں ان معاشروں میں خاص طور پر احتیاط کرنی چاہئے۔اپنی ذمہ داریوں 70 70