عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 66 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 66

عائلی مسائل اور ان کا حل ہوں۔پس اگر احمدی جوڑے اس حکم کو سامنے رکھیں تو وہ اُن احکام کی تلاش بھی کریں گے جو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ نے نکاح کی آیات میں پانچ جگہ تقویٰ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔پس ہو ہی نہیں سکتا کہ جو اس حد تک خدا تعالیٰ کے تقویٰ کو مد نظر رکھے اس کا گھر کبھی فساد کا گڑھ بن سکتا ہے، یا کبھی اس میں فساد پیدا ہو سکتا ہے۔کبھی لڑائی جھگڑے اس میں پیدا ہو سکتے ہیں اور اسی طرح جو رحمی رشتوں کا پاس کرنے والا ہو گا۔جو ایک دوسرے کے رشتوں کا پاس کرنے والا ہو گا۔ان کا خیال رکھنے والا ہو گا اس کی دعاؤں کی قبولیت کی خوشخبری بھی اس میں دے دی گئی ہے“۔وو (خطاب فرمودہ 14اکتوبر 2009ء بر موقع سالانہ اجتماع لجنہ اماءاللہ بر طانیہ ) جلسہ سالانہ برطانیہ 2011ء میں خواتین سے حضور انور نے جب خطاب فرمایا تھا تو اس سے قبل تلاوت قرآن کریم میں انہی آیات کریمہ کا انتخاب فرمایا تھا جو اعلان نکاح کے موقع پر پڑھی جاتی ہیں۔بعد ازاں آپ نے فرمایا: " عائلی مسائل جو ہمارے سامنے آتے ہیں اُن میں بسا اوقات کبھی عورت کی طرف سے اور کبھی مرد کی طرف سے یہ issue بہت اُٹھایا جاتا ہے کہ ہمارے ماں باپ یا بہن بھائیوں کو کسی ایک نے بُرا کہا۔مرد یہ الزام لگاتا ہے کہ عورتیں کہتی ہیں، عور تیں الزام لگاتی ہیں کہ مرد کہتے ہیں کہ میرے ماں باپ کی برائی کی۔اُن کو یہ کہا، اُن کو وہ کہا۔اُن کو گالیاں دیں۔تو یہ چیز جو ہے یہ تقویٰ سے دور ہے۔یہ چیز پھر گھروں میں فساد پیدا کرتی ہے۔پھر یہی 99 66