عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 29 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 29

عائلی مسائل اور ان کا حل رہتے جن پر اللہ تعالیٰ فضل فرماتا ہے یا جن سے اللہ تعالیٰ نے فضل فرمانے کا وعدہ فرمایا ہوا ہے۔پس احمدیوں کو اپنی گواہیوں میں بھی اور اپنے معاملات میں بھی جب پیش کرتے ہیں تو سو فیصد سچ سے کام لینا چاہئے۔مثلاً عائلی معاملات ہیں۔نکاح کے وقت اس گواہی کے ساتھ رشتہ جوڑنے کا عہد کر رہے ہوتے ہیں کہ ہم قول سدید سے کام لیں گے۔سچ سے کام لیں گے۔ایسا سچ بولیں گے جس میں کسی قسم کا ابہام نہ ہو۔جس سے کوئی اور مطلب بھی اخذ نہ کیا جا سکتا ہو۔صاف ستھری بات ہو۔لیکن شادی کے بعد لڑکی لڑکے سے غلط بیانی کرتی ہے اور لڑکا لڑکی سے غلط بیانی کرتا ہے۔دونوں کے سسرال والے ایک دوسرے سے غلط بیانی کر رہے ہوتے ہیں اور یوں ان رشتوں میں پھر دراڑیں پڑتی چلی جاتی ہیں اور آہستہ آہستہ یہ ختم ہو جاتے ہیں۔صرف ذاتی اناؤں اور ذاتی خواہشات کی تکمیل کے لئے گھر ٹوٹ رہے ہوتے ہیں۔اگر بچے ہو گئے ہیں تو وہ بھی برباد ہو جاتے ہیں۔پہلے بھی کئی مرتبہ میں اس بارہ میں کہہ چکا ہوں۔پس اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے کے لئے بھی اور بندوں کے حق ادا کرنے کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ ایک مومن کو، ان لوگوں کو جو اپنے آپ کو عبادالرحمن میں شمار کرتے ہیں ہر قسم کے جھوٹ سے نفرت ہو“۔(خطبہ جمعہ فرمودہ 25 ستمبر 2009ء بمقام مسجد بیت الفتوح لندن۔مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 16 اکتوبر 2009ء) اسی طرح ایک اور موقع پر فرمایا: ”پس جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ نکاح کے وقت کی قرآنی نصائح کو 29