عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 246
عائلی مسائل اور ان کا حل اس عمل کو جس میں ایک دوسرے کے رحمی رشتوں کے حق ادا نہیں ہو رہے ہوتے اپنی پکڑ میں بھی لاتا ہے۔پس پہلے دن سے ہی اس سوچ کے ساتھ ایک مرد اور عورت کو شادی کے رشتہ میں منسلک ہونا چاہئے کہ صرف ایک رشتہ ہی میں نے نہیں نبھانا۔خاوند نے بیوی کے ساتھ یا بیوی نے خاوند کے ساتھ رشتہ نہیں نبھانا بلکہ جو بھی قریبی رشتے ہیں وہ سب نبھانے ہیں۔اس سوچ کے ساتھ عورت کو خاوند کے گھر جانا چاہئے اور اس سوچ کے ساتھ مرد کو عورت کو بیاہ کر لانا چاہئے کہ ہم نے اپنے وسیع تعلقات کو نبھانا ہے ، یعنی رشتوں کے آگے رحمی رشتوں کو بھی نبھانا ہے۔اگر ہم اپنے معاشرے میں اس سوچ کو اچھی طرح سمجھتے ہوئے پیدا کریں گے تو ہمارے معاشرے میں جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑائی جھگڑے شروع ہو کر مار پٹائی اور پولیس کیس اور خلع اور طلاق تک پہنچ جاتے ہیں اُن میں غیر معمولی کمی آجائے گی۔پھر سچائی ایک ایسی چیز ہے جو تمام نیکیوں کی جڑ ہے۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے یہ کہنے پر کہ میں صرف ایک برائی چھوڑ سکتا ہوں مجھے بتائیں کہ میں کیا برائی چھوڑوں ؟ آپ ا نے فرمایا کہ جھوٹ بولنا چھوڑ دو اور ہمیشہ سچ بات کہنی ہے اور اس وجہ سے جب بھی اُس نے کسی برائی کا ارادہ کیا تو ایک ایک کر کے تمام برائیاں اُس کی ٹچھٹ گئیں۔(التفسیر الکبیر از امام رازی تجلد نمبر 16 سورة التوبہ آیت یا ایھا الذین امنوا اتقوا اللہ صفحہ 176 دار الكتب العلمیة بیروت 2004) تو اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ سچائی اختیار کرو۔246