عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 245
عائلی مسائل اور ان کا حل نہیں ہے۔تم تو پھر تقویٰ سے دور چلتے چلے جارہے ہو۔اس لئے اپنے رحمی رشتوں کا بھی خیال رکھو۔ان آیات میں، پہلی آیت میں ہی اس طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ اپنے رحمی رشتوں کا بھی خیال رکھو۔ماں باپ صرف خود ہی خیال نہ رکھیں اپنے بچوں کو بھی ان رحمی رشتوں کا تقدس اور احترام سکھائیں۔تبھی ایک پاک معاشرہ قائم ہو سکتا ہے۔اور خود بھی اس کے تقدس کا خیال بہت زیادہ رکھیں کیونکہ ماں باپ کے نمونے جو ہیں وہ بچوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو انسانوں میں سے انسانی فطرت کو سب سے زیادہ جاننے والے تھے، آپ نے نکاح کے خطبے میں ان آیات کا انتخاب فرما کر مرد اور عورت کو شادی یا رشتہ ازدواج میں منسلک ہوتے وقت یہ احساس پیدا کروا دیا ہے یا پیدا کر وانے کی کوشش کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو ہمیشہ یاد رکھنا کہ میاں بیوی کا بندھن ایک ایسا بندھن ہے جس میں جہاں تم نے آپس میں ایک دوسرے کے لئے نیک جذبات اور احساسات رکھنے ہیں وہاں ایک دوسرے کے رحمی رشتوں اور قریبی رشتوں کا بھی احترام کرنا ہے۔اگر تم حقیقی مومن ہو تو یہ ضروری ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کا خوف ہے تو لازماً تمہیں اپنے ظاہری اعضاء کا بھی اور دل کا بھی استعمال ان رحمی رشتوں کی بہتری کے لئے کرنا ہو گا۔اگر تم یہ نہیں کر رہیں یا مرد نہیں کر رہے تو یاد رکھو، اللہ تعالیٰ تم پر نگران ہے۔تمہارے عملوں اور تمہاری حالتوں کو دیکھ رہا ہے۔اور جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نگران ہوں تو پھر وہ ایسے مردوں اور عورتوں کے 245