عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 244 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 244

عائلی مسائل اور ان کا حل برائیوں سے روکے اور نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔بلکہ ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ آبادی کے لحاظ سے تو کافروں کی مومنوں کے مقابلہ میں زیادہ کثرت ہے، لیکن یہاں توجہ دلائی ہے کہ حقیقی کثرت وہ ہے جو تقویٰ پر چلنے والوں کی ہے۔کیونکہ آخری انجام، بہتر انجام انہی لوگوں کا ہے اور انہی سے دنیا کا امن اور سکون بھی قائم ہوتا ہے۔اس لئے تم دنیا داروں سے متاثر نہ ہو جاؤ۔اُن کی طرف دیکھ کر متاثر نہ ہو بلکہ تقویٰ پر چلو تو اللہ تعالیٰ کے انعامات کے وارث بنو گے۔تمہاری اولادیں بھی تمہارے لئے دعائیں کرنے والی ہوں گی اور تمہارے درجات بلند کرنے کا باعث بنیں گی۔عائلی مسائل جو ہمارے سامنے آتے ہیں اُن میں بسا اوقات کبھی عورت کی طرف سے اور کبھی مرد کی طرف سے یہ ایشو بہت اُٹھایا جاتا ہے کہ ہمارے ماں باپ یا بہن بھائیوں کو کسی ایک نے بُرا کہا۔مرد یہ الزام لگاتا ہے کہ عور تیں کہتی ہیں، عور تیں الزام لگاتی ہیں کہ مرد کہتے ہیں کہ میرے ماں باپ کی برائی کی۔اُن کو یہ کہا، ان کو وہ کہا۔ان کو گالیاں دیں۔تو یہ چیز جو ہے یہ تقویٰ سے دور ہے۔یہ چیز پھر گھروں میں فساد پیدا کرتی ہے۔پھر یہی نہیں بعض دفعہ یہ بھی ہوتا ہے کہ یہاں صرف الزام کی بات نہیں ہے بلکہ ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں اور بعض الزامات بچے بھی نکلتے ہیں کہ بچوں کو دادا دادی یا نانا نانی کے خلاف بھڑ کا یا جاتا ہے۔ایک دوسرے کے قریبی رشتوں کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔بچوں کو اُن سے متنفر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ تقویٰ سے بعید ہے۔یہ تقویٰ 244