عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 243 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 243

عائلی مسائل اور ان کا حل مردوں کی طرف سے بھی جھگڑے ہوتے رہیں ، جن گھروں میں صرف اپنی اناؤں کی باتیں ہوتی رہیں وہاں پھر ایسے لوگ پیدا نہیں ہوتے الا ماشاء اللہ، سوائے اس کے کہ بعض گھر ایسے ہوتے ہیں جہاں پھر بچے reaction دکھا رہے ہوتے ہیں اور اپنے ماں باپ سے جس کی بھی زیادتی ہو، ماں کی یا باپ کی، اُس سے متنفر ہو جاتے ہیں، گھروں سے چلے جاتے ہیں اور خود اپنی تربیت کی طرف بھی توجہ کرتے ہیں، گو ایسے بہت کم ہوتے ہیں۔پس اپنی نسلوں کو بچانے کے لئے بہت ضروری ہے کہ صرف اپنی ذات کو اپنا محور نہ بنائیں بلکہ اپنے خیالات کو، اپنے جذبات کو قربان کرنے کی عادت ڈالنا ضروری ہے۔تبھی ایک حسین معاشرہ پیدا ہو سکتا ہے۔اس دعا کا خیال بھی ایک ایسے مومن بچے کو ہی آسکتا ہے۔ایک ایسے شخص کو ہی آسکتا ہے جو اس بات کا ادراک رکھتا ہو کہ تقویٰ کیا ہے؟ اور پھر اُس کو پتہ لگتا ہے کہ تقویٰ یہی ہے کہ میں اپنے والدین کے احسانوں کا شکر گزار بنے ہوئے اُن کے لئے خدا تعالیٰ سے مددمانگوں، دعا مانگوں، اُن کی بہتری کی دعا کروں۔اللہ تعالیٰ نے بکثرت مردو عورت پھیلائے ہیں اور کافروں کے ذریعے سے بھی پھیلائے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے لوگو! تمہیں جو کثرت سے مرد اور عورت کی صورت میں پھیلایا گیا ہے تو تقویٰ اختیار کرو۔یعنی کہ وہ خاص لوگ جن کو دین کی طرف بھی رغبت ہے اگر تمہیں خدا کی رضا مطلوب ہے، اگر تم دین چاہتے ہو تو پھر اُس تقویٰ کی تلاش کرو جو خدا تک پہنچاتا ہے۔اُس خشیت اور اُس خوف کی تلاش کرو جو تمہیں اللہ تعالیٰ کی خاطر 243