عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 241 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 241

عائلی مسائل اور ان کا حل موقع پر رکھی ہیں کہ تقویٰ پر قائم ہوتے ہوئے ایک دوسرے کے حقوق ادا کرو، تبھی تم خدا تعالی کی امانتوں اور ایمانی عہدوں کی بھی صحیح رنگ میں ادائیگی کر سکو گے۔اور اپنے معاشرے کی امانتوں اور عہدوں کی بھی صحیح طرح ادائیگی کر سکو گے۔پس ہر مومن اور مومنہ کو یاد رکھنا چاہئے ، ہر احمدی عورت اور مرد کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ وہ اپنے عہد کے دعوے کو تبھی پورا کرنے والے بن سکتے ہیں جب اپنے ہر رشتے کی جو بنیاد ہے اُس کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں گے۔شادی کا پاک رشتہ جہاں خدا تعالیٰ نے ایک دوسرے کی تسکین کے سامان کے لئے قائم فرمایا ہے وہاں انسانی نسل کے چلانے کا ذریعہ بھی ہے۔اور پھر اس سے وہ نسل پیدا ہو گی جس کی اگر صحیح تربیت کی جائے تو پھر وہ معاشرے کے امن کی ضمانت بن جاتی ہے۔صرف جسمانی تسکین اور نسل چلانا ہی کام نہیں ہے۔یہ تو جانوروں میں بھی ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے تو اس کے کچھ لوازمات بھی ہیں۔انسان کے لئے اس کے ساتھ ذہنی تسکین بھی ہے۔اس لئے رشتوں کے بارہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کفو کا بھی خیال رکھو اور کفو میں بہت ساری چیزیں آجاتی ہیں۔خاندان بھی آجاتے ہیں، تعلیم بھی آجاتی ہے۔لیکن اس کو بہانہ بنا کر پھر رشتے نہ کرنے یا رشتے توڑنے کے بھی جواز پیدا کر لئے جاتے ہیں۔اگر تقویٰ پر چلا جائے تو پھر یہ بہانے نہیں بنتے۔پھر صحیح فیصلے کئے جاتے ہیں۔پھر علمی تسکین بھی ہے جو رشتوں سے حاصل ہوتی ہے۔روحانی سکون 241