عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 24
عائلی مسائل اور ان کا حل دنیاوی سکون کی خاطر نہیں ہے بلکہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی پابندی کی جائے، اس پر عمل کیا جائے اور آئندہ کے لئے اللہ تعالی سے دعا مانگتے ہوئے نیک نسل پیدا ہونے کا آغاز کیا جائے“۔نیز حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: پس اس بات کو ہمیشہ ہمارے ہر احمدی جوڑے کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔اگر سامنے کوئی مقصد ہو گا تو پھر نئے بننے والے جوڑے کا ہر قدم جو زندگی میں اٹھے گا، وہ اس سوچ کے ساتھ اٹھے گا کہ میں اللہ تعالیٰ کے ایک حکم پر عمل کرنے والا ہوں اور کرنے والی ہوں اور جب انسان اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرنے والا ہو تو پھر اس کی سوچ کا ہر پہلو اس طرف جانے کی کوشش کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ہو۔پس اس سے پھر آپس کے تعلقات مزید بہتر ہوتے ہیں۔ایک دوسرے کا خیال انسان رکھتا ہے۔ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھتا ہے۔ایک دوسرے کے احساسات کا خیال رکھتا ہے اور اس طرح یہ ایک جو Bond ہے، آپس کا ایک جو معاہدہ ہے وہ دنیاوی معاہدہ نہیں رہتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا معاہدہ بن جاتا ہے اور پھر آئندہ پیدا ہونے والی نسلیں بھی نیک صالح نسلیں ہوتی ہیں اور یہی ایک احمدی مسلمان کا شادی کا مقصد ہونا چاہئے“۔(مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 8 جون 2012ء) 8 جولائی 2012ء کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسجد بیت الاسلام کینیڈا میں دو نکاحوں کا اعلان فرمایا۔اس موقع پر خطبہ نکاح میں حضور انور نے 24