عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 219 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 219

عائلی مسائل اور ان کا حل بیٹیاں آگ سے نجات کا ذریعہ بیٹیوں کی پیدائش پر پیدا ہونے والے بے جا عائلی مسائل کے ضمن میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے ایک خطبہ جمعہ میں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ”آج میں سب سے پہلے جو حدیث پیش کروں گا اس کا تعلق دشمنوں کے ساتھ نہیں بلکہ عائلی زندگی کے صبر کے ساتھ ہے کہ خاوند اور بیوی کو عائلی زندگی کس طرح گزارنی چاہئے۔کئی عورتوں کے بھی خطوط آتے ہیں اور اگر ملاقات کا موقع مل جائے تو اس میں بھی شکایات کرتی ہیں کہ ہماری بیٹیاں ہیں مثلاً اور بیٹا کوئی بھی نہیں جس کی وجہ سے خاوند اور سسرال مستقل طعنہ دیتے رہتے ہیں۔گھریلو زندگی اجیرن ہوئی ہوئی ہے۔یا بیٹیاں خود بھی لکھ دیتی ہیں کہ ہمارے باپ کا ہمارے ساتھ بیٹی ہونے کی وجہ سے نیک سلوک نہیں ہے اور ہماری زندگی مستقل اذیت میں ہے۔اس بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ایسی ہے جو لوگوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔کیونکہ بہت سارے ایسے ہیں جو دینی علم رکھتے ہیں، جماعتی کام بھی کرنے والے ہیں لیکن پھر بھی گھروں میں ان کے سلوک اچھے نہیں ہوتے۔اس حدیث کے سننے کے بعد میں سمجھتا ہوں کہ کوئی انسان جس میں ہلکی سی بھی ایمان کی رمق ہو ، اپنی بیٹیوں کو بیوی یا بیٹیوں 219