عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 218
عائلی مسائل اور ان کا حل کوئی برائی کرتا ہے کرے لیکن تم اپنے دل میں کبھی کسی کی برائی کا خیال نہ ر عمل سے بھی بدی کا بدلہ نہ لینا۔دیکھنا پھر خدا ہمیشہ تمہارا بھلا کرے گا۔پھر آپ اکثر بچوں اور بچیوں کو یہ نصیحت بھی فرمایا کرتی تھیں کہ : اپنے نئے گھر میں جارہی ہو وہاں کوئی ایسی بات نہ کرنا جس سے تمہارے سسرال والوں کے دلوں میں نفرت اور میل پیدا ہو اور تمہاری اور تمہارے والدین کے لئے بدنامی کا باعث ہو۔پس سسرال کے معاملات میں کبھی دخل نہیں دینا چاہئے۔جو اُن کے معاملے ہو رہے ہیں، ہونے دو۔نہ ہی ساس کی اور نندوں کی باتیں خاوند سے شکوے کے رنگ میں کرنی چاہئیں۔رض حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بڑی بیٹی تھیں جیسا کہ میں نے کہا انہوں نے حضرت خلیفہ اول کی بھی ایک نصیحت بیان فرمائی ہے۔جو حضرت خلیفہ اول اُن کو بھی کرتے تھے اور دوسری بچیوں کو بھی کیا کرتے تھے اور میں سمجھتا ہوں کہ آج یہ نصیحت اور اس پر جو عمل ہے پہلے سے زیادہ اہم ہے اور بارہ تیرہ سال کی جو بچیاں ہیں، جوانی کی عمر میں قدم رکھ رہی ہوتی ہیں، اُن کو ضرور یہ دعا کرنی چاہئے۔حضرت خلیفہ اول نے آپ کو کئی مرتبہ فرمایا کہ : دیکھو اللہ تعالیٰ کے آگے کوئی شرم نہیں، تم چھوٹی ضرور ہو مگر خدا سے دعا کرتی رہا کرو کہ اللہ مبارک اور نیک جوڑا دے“۔(سالانہ اجتماع لجنہ اماء اللہ یو کے خطاب فرموده 4 / اکتوبر 2009ء - مطبوعه الفضل انٹر نیشنل 18 دسمبر 2009ء) 218