عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 215
عائلی مسائل اور ان کا حل حفظ الله (النساء:35) پس نیک عورتیں فرمانبردار اور غیب میں بھی ان چیزوں کی حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں جن کی حفاظت کی اللہ تعالیٰ نے تاکید کی ہے۔غیب میں بھی وہی نیکیوں پر قائم رہ سکتی ہے یارہ سکتا ہے، وہی شخص فرمانبر دار ہو سکتا ہے وہی عورت فرمانبر دار ہو سکتی ہے، وہی اپنے اور اپنے خاوندوں کے رازوں کی حفاظت کر سکتی ہے جس کو اللہ تعالیٰ پر یقین ہو ، اُس کا خوف ہو۔اللہ تعالیٰ کی خشیت اُس کے دل میں ہو۔غیب میں جن چیزوں کی حفاظت کا حکم ہے اُن میں اپنے خاوند کے بچوں کی تربیت کی نگرانی اور اُن کی دیکھ بھال بھی ہے۔یہ نہیں کہ خاوند گھر سے باہر اپنے کام کیلئے نکلا تو عورت نے بھی اپنا بیگ اٹھایا اور بچوں کو گھر میں چھوڑا اور اپنی مجلسیں لگانے کیلئے نکل پڑیں۔یا بچوں کی تربیت کی طرف صحیح توجہ نہیں دی۔ایک بہت بڑی ذمہ داری عورت پر بچوں کی تربیت کی ہے۔اس کو پورانہ کر کے وہ نہ صالحات میں شمار ہو سکتی ہیں نہ قانتات میں شمار ہو سکتی ہیں، نہ اُس نسل کی حفاظت کا حق ادا کر سکتی ہیں جس کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے اُس پر ڈالی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت اپنے گھر کی نگران ہے اور اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔( بخاری کتاب الاستقراض وادا الدین 133 باب العبد راع في مال سيد 1330 حدیث 2409) (جلسه سالانه جر منی خطاب از مستورات فرمودہ 25 جون 2011ء مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 13 ر اپریل 2012ء) 215