عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 175
عائلی مسائل اور ان کا حل بِالْمَعْرُوفِ (النساء:20) ان سے نیک سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرو۔ظلم اور زیادتی کے بہانے تلاش نہ کرو۔نہ ان کی جائیداد پر نظر رکھو۔نہ ان کو جو تم دے چکے ہو اس پر نظر رکھو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنی بیوی سے نیک سلوک رکھے۔پھر آپ ا ہم نے فرمایا: اپنی بیویوں سے سب سے زیادہ نیک سلوک کرنے والا میں ہوں“۔(سنن ابی ماجہ کتاب النکاح باب حسن معاشرة النساء حدیث 1977) تو دیکھیں مردوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اُسوہ سے عورت کے حقوق قائم کرنے پر مزید توجہ دلوادی۔یہاں اس آیت (النساء:20) میں جو یہ فرمایا ہے کہ سوائے اس کے کہ عور میں کھلی کھلی بے حیائی کی مرتکب ہوں، یہاں واضح ہو کہ اس کا تعلق بھی مال لینے سے نہیں ہے۔یعنی یہ نہیں ہے کہ اگر کوئی عورت، کسی کھلی بے حیائی کی مرتکب ہو رہی ہے تو مرد اُن کے مال پر قبضہ کر لیں۔بلکہ نیک سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرنے سے اس کا تعلق ہے یا حق دلانے کے ساتھ تعلق۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ : نہ اِس وجہ سے (یعنی کھلی کھلی بے حیائی کی مر تکب ہوں) اسے اپنی چیز سے جو اس عورت کی ملکیت ہے محروم کرنے کی کوشش کرو اور نہ ہی اس کا جو حق تم پر بنتا ہے اُس سے اُسے محروم رکھنے کی کوشش کرو۔ذرا ذراسی بات پر جو مرد عورت کو تنگ کرتے ہیں یا انہیں طلاق ہے۔175