عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 174 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 174

عائلی مسائل اور ان کا حل یہ واقعات آج کل بھی ہو رہے ہیں اور ہوتے ہیں۔بہت ساری شکایتیں آتی ہیں۔یہ ایسے واقعات ہیں جن کو پندرہ سو سال قبل قرآن کریم نے بیان فرما کر ان سے بچنے کی طرف مردوں کو توجہ دلا دی تاکہ عورت کے حق قائم رہیں۔پھر بعض دفعہ رشتہ دار عورت کو اس کی مرضی کے خلاف اس بات پر مجبور کرتے ہیں کہ وہ کسی ایسے شخص سے شادی کر لے جو ان کے عزیزوں میں سے ہے تاکہ فوت شدہ خاوند کی جو جائیداد ہے وہ باہر نہ جائے۔خاوند بعض دفعہ غلط طریقے سے عورت کی جائیداد ہتھیا لیتے ہیں۔جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا ہے ان ملکوں میں قانونی کارروائیاں کر کے جو ہوتا ہے۔خاوند کے رشتہ دار اس کے مرنے کے بعد بھی کرتے ہیں۔اگر خاوند نہیں کر رہا تو خاوند کے رشتہ دار کرنا شروع کر دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ تمام صورتیں جو ہیں یہ منع ہیں اور عورت کو اس کے حق سے محروم کرنے والی بات ہے۔عورت کو اس کی بیوگی یا طلاق کے بعد اپنی مرضی کی شادی کرنے کا بھی حق ہے جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا ہے۔لیکن عورت کا نکاح چونکہ بغیر ولی کے نہیں ہو سکتا۔اس لئے اگر ایسی رو کیں کھڑی ہو جائیں تو خلیفہ وقت کے پاس عورت درخواست کر سکتی ہے اور اگر عذر جائز ہو تو خلیفہ وقت ولی بن سکتا ہے یا ولی مقرر کر سکتا ہے یا وکیل مقرر کر سکتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ عورتوں کے حقوق کی حفاظت کرتے ہوئے اس آیت میں فرماتا ہے کہ: عَاشِرُوهُنَّ 174