عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 137 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 137

عائلی مسائل اور ان کا حل حالات ان سے بہتر ہوتے ہیں اور پھر خرچ کر لیتی ہیں پھر خاوندوں سے مطالبہ ہوتا ہے کہ اور دو۔پھر آہستہ آہستہ یہ حالت مزید بگڑتی ہے اور اس قدر بے صبری کی حالت اختیار کر لیتی ہے کہ بعض دفعہ باوجود اس کے کہ دودو تین تین بچے بھی ہو جاتے ہیں لیکن اس بے صبری کی قناعت کی وجہ سے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل نہ ہونے کی وجہ سے۔کیونکہ ایسے لوگ صرف دنیا داری کے خیالات سے ہی اپنے دماغوں کو بھرے رکھتے ہیں۔اللہ تعالی پر اس وجہ سے یقین بھی کم ہو جاتا ہے اور اگر خدا تعالیٰ پر یقین نہ ہو تو پھر اس کے سامنے جھکتے بھی نہیں ، اس سے دعا بھی نہیں کرتے۔تو یہ ایک سلسلہ جب چلتا ہے تو پھر دوسر ا سلسلہ چلتا چلا جاتا ہے اور پھر جو اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنے والے نہ ہوں ان پر توکل کیسے رہ سکتا ہے۔تو ایسی عورتیں پھر اپنے گھروں کو برباد کر دیتی ہیں۔خاوندوں سے علیحدہ ہونے کے مطالبے شروع ہو جاتے ہیں اور پھر جیسا کہ میں نے کہا کہ ایک برائی سے دوسری برائی پیدا ہوتی چلی جاتی ہے“۔(خطبہ جمعہ فرمودہ 15 اگست 2003ء بمقام مسجد فضل، لندن برطانیہ مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 10 اکتوبر 2003ء) عورتوں کی ناجائز خواہشات اور مطالبات حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 15 اپریل 2006 ء کو جلسہ سالانہ آسٹریلیا میں مستورات سے خطاب میں عورتوں کو 137