عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 122 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 122

عائلی مسائل اور ان کا حل رکھتا ہو تو وہ اپنی طاقت کے مطابق جو حق بھی ادا کر سکتا ہے کرے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم نیکی کرنے والے اور تقویٰ سے کام لینے والے ہو تو پھر تم پر فرض ہے کہ یہ احسان کرو۔آنحضرت تم نے اس کی کس حد تک پابندی فرمائی اس کا اظہار ایک حدیث سے ہوتا ہے۔ایک دفعہ ایک انصاری نے شادی کی اور پھر اس عورت کو چھونے سے پہلے سے طلاق دے دی اور اس کا مہر بھی مقرر نہیں کیا گیا تھا۔یہ معاملہ جب آنحضرت ام کی خدمت میں پیش ہوا تو آپ ہم نے اس سے پوچھا کہ کیا تم نے احسان کے طور پر اُسے کچھ دیا ہے ؟ تو اس صحابی نے عرض کیا: یارسول اللہ ! میرے پاس تو کچھ ہے ہی نہیں کہ میں اسے کچھ دے سکوں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر کچھ نہیں ہے تو تمہارے سر پر جو ٹوپی پڑی ہوئی ہے وہی دے دو۔(روح المعانی جلد نمبر صفحہ 745,746 تفسیر سورة البقرة زير آيت:237) اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے حقوق کا کس قدر اظہار فرمایا اور خیال رکھا۔یہ تو صور تحال بیان ہوئی ہے کہ اگر حق مہر مقرر نہیں بھی ہوا تو کچھ نہ کچھ دو اور اگر حق مہر پہلے مقرر ہو چکا ہے تو اس صورت میں کیا کرنا ہے ؟ اس کا بھی اگلی آیات میں بڑا واضح حکم ہے کہ پھر جب حق مہر مقرر ہو چکا ہو تو ایسی صورت میں اس کا نصف ادا کرو“۔(خطبه جمعه فرمودہ 15 / مئی 2009ء - مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 105 جون 2009ء) 122