عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 113
عائلی مسائل اور ان کا حل طبیعت ملتی ہے کہ نہیں اور اگر طبیعت نہیں ملتی تو ٹھو کر مار کے گھر سے نکال دو اور یہ لوگ پھر فوری طور پر یہاں اپنی شادیاں اور نکاح رجسٹر بھی نہیں کراتے کہ لڑکی کو کوئی قانونی تحفظات حاصل نہ ہو جائیں اور یہاں رہ کر ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہ کر سکے اور ایسے معاملات میں والدین بھی برابر کے قصور وار ہوتے ہیں۔بہر حال پھر جماعت ایسی بچیوں کو سنبھالنے کی کوشش کرتی ہے لیکن ان کے یہ عمل ظاہر کر رہے ہوتے ہیں کہ یہ کسی طرح بھی جماعت میں رہنے کے حقدار نہیں ہیں۔دوسری قسم کے لڑکے وہ ہیں جو باہر سے آکر یہاں کی لڑکیوں سے شادیاں کرتے ہیں اور فوری طور پر نکاح رجسٹر کروانے کی کوشش کرتے ہیں اور جب نکاح رجسٹر ہو جائے اور ان کو ویزا و غیرہ مل جائے تو پھر ان کو لڑکیوں میں برائیاں نظر آنی شروع ہو جاتی ہیں اور پھر علیحدگی اور اپنی مرضی کی شادی۔تو یہ دونوں قسم کے لوگ تقویٰ سے ہٹے ہوئے ہیں۔اپنی جانوں پر ظلم نہ کریں ، جماعت کو بدنام کرنے کی کوشش نہ کریں اور تقویٰ پر قائم ہوں، تقویٰ پر قدم ماریں، تقویٰ پر چلیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ایسے ظلم کرنے والوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ ان پر بھی ایک بالا ہستی ہے جو بہت طاقتور ہے“۔(خطبہ جمعہ فرمودہ 10 نومبر 2006ء بمقام مسجد بیت الفتوح لندن مطبوعه الفضل انٹر نیشنل یکم دسمبر 2006ء) 113