عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 102 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 102

عائلی مسائل اور ان کا حل افہام و تفہیم سے عورتیں دے بھی دیتی ہیں۔لیکن اگر عورت کو پتہ ہو کہ میرا خاوند نکھٹو ہے ، اس میں اتنی استعداد ہی نہیں ہے کہ وہ کاروبار کر سکے اور یہ احساس ہو کہ کچھ عرصہ بعد میر اجو اپنا سرمایہ ہے ، رقم ہے وہ بھی جاتی رہے گی اور گھر میں پھر فاقہ زدگی پیدا ہو جائے گی اور وہی حالات ہو جائیں گے تو وہ نہیں دیتیں اور اس سے لڑائی جھگڑے بڑھتے ہیں۔پھر یہ بھی ہوتا ہے کہ بعض دفعہ تھوڑی بے غیرتی کی حد آگے بھی چلی جاتی ہے جب ایک دفعہ بے غیرت انسان ہو جائے تو یہ مطالبہ ہو جاتا ہے کہ بیوی کو کہا جاتا ہے کہ تمہارا باپ کافی پیسے والا ہے ، امیر ہے اس لئے مجھے اتنی رقم اس سے لے کر دو تاکہ میں کاروبار کروں اور اس میں لڑکے کے گھر والے بھائی بہن وغیرہ بھی شامل ہوتے ہیں جو اس کو اکساتے رہتے ہیں کہ تم اس رقم کا مطالبہ کرو۔تو گویا اب لڑکی کے پورے سسرال کو پالنا اس کی ذمہ داری ہو جاتی ہے۔تو ایسے لوگ جو اس قسم کی حرکتیں کرتے ہیں وہ ہمیشہ وہی ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف نہ جھکنے والے اور اس پر توکل نہ کرنے والے اور اس کے احکامات اور عمل نہ کرنے والے ہوتے ہیں۔جو اللہ تعالیٰ کی عبادات، جو حق ہے عبادت کرنے کا اس طرح نہ کرنے والے ہوں ان میں کبھی تو کل پیدا ہو ہی تعلیم پر نہیں سکتا اور پھر جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ جب عائلی معاملات میں ایسے حالات پیدا ہو جائیں تو ان حالات میں بھی عورتوں پر ہی ظلم یہ ہوتا ہے کہ اگر مردوں کی Demand پوری نہ کی جائیں تو ان کو گھر سے نکال دیا جاتا ہے اور 102