عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 73
عائلی مسائل اور ان کا حل بے حیائی نہیں ہے ایسی باتیں جو ہمسائیوں میں کسی بدنامی کا موجب بن رہی ہوں، بعض ایسی حرکتیں ہوتی ہیں) تو پہلے ان کو نصیحت کرو، پھر ان کو بستروں میں الگ چھوڑ دو اور پھر اگر ضرورت ہو تو ان کو بدنی سزا بھی دو اور پھر فرمایا پس اگر وہ تمہاری اطاعت کریں تو پھر ان کے خلاف کوئی حجت یا بہانے تلاش نہ کرو۔یقینا اللہ بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔تو فرمایا کہ : اس انتہائی باغیانہ رویے سے عورت اپنی اصلاح کرلے تو پھر بلاوجہ اسے سزا دینے کے بہانے تلاش نہ کر و یا درکھو کہ اگر تم تقویٰ سے خالی ہو کر ایسی حرکتیں کرو گے اور اپنے آپ کو سب کچھ سمجھ رہے ہو گے اور عورت کی تمہارے نزدیک کوئی حیثیت ہی نہیں ہے تو یاد رکھو کہ پھر اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی ہے جو تمہاری ان حرکتوں کی وجہ سے تمہاری پکڑ بھی کر سکتی ہے۔اس لئے جو درجے سزا کے مقرر کئے گئے ہیں ان کے مطابق عمل کرو اور جب اصلاح کا کوئی پہلو نہ دیکھو، اگر ایسی عورت کا بدستور وہی رویہ ہے تو پھر سزا کا حکم ہے۔یہ نہیں کہ ذرا ذراسی بات پر اٹھے اور ہاتھ اٹھا لیا یا سوئی اٹھالی اور اتنے ظالم بھی نہ بنو کہ بہانے تلاش کر کے ایک شریف عورت کو اس باغیانہ روش کے زمرے میں لے آؤ اور پھر اسے سزا دینے لگو۔ایسے مرد یاد رکھیں کہ خدا کا قائم کردہ نظام بھی یعنی نظام جماعت بھی، اگر نظام کے علم میں یہ بات آجائے تو ایسے لوگوں کو ضرور سزا دیتا ہے۔خدا کے لئے قرآن کو بدنام نہ کریں اور اپنی اصلاح کی کوشش کریں“۔73