عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 242 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 242

عائلی مسائل اور ان کا حل کے سامان بھی ہیں جو ان رشتوں سے میسر آتے ہیں۔اگر مرد اور عورت میں ہم آہنگی ہو تو اس میں اگلی نسلوں کی ذہنی، روحانی اور علمی تربیت کے سامان بھی بہت ہو رہے ہوتے ہیں۔پس ایک مرد اور عورت جو ایک خاندان کی بنیاد ڈالنے والے ہوتے ہیں وہ ایک معاشرے کی بنیاد ڈال رہے ہوتے ہیں۔ایک قوم کو اچھا یا بر ابنانے کی بنیاد ڈال رہے ہوتے ہیں۔پس اس طرف بہت غور کرنے کی ضرورت ہے۔اس لئے اللہ تعالی نے پانچ جگہ نکاح کے موقع پر تقویٰ کا لفظ استعمال کر کے ہمیں اس کی طرف توجہ دلائی ہے کہ تمہارا ہر مل ، تمہار ا ہر قول، تمہارا ہر عمل صرف اپنی ذات کے لئے نہ ہو بلکہ تقویٰ پر بنیاد رکھتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے ہوئے اللہ کے بھی حقوق ادا کرنے والا ہو اور ایک دوسرے کے بھی حقوق ادا کرنے والا ہو۔اور پھر جب یہ ہو جاتا ہے تو پھر وہ نسل پیدا ہوتی ہے جو ماں باپ کے لئے دعائیں کرنے والی ہوتی ہے۔جیسا کہ قرآنِ کریم میں بھی ذکر ملتا ہے کہ اس نیک تربیت کی وجہ سے جو اُن کے ماں باپ نے بچوں کی کی ہوتی ہے ، وہ یہ دعا مانگ رہے ہوتے ہیں که رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّينِي صَغِيرًا (بنی اسرائیل : 25) کہ اے میرے رب ! اُن پر رحم فرما کہ انہوں نے بچپن کی حالت میں میری پرورش کی ہے۔صرف پالا نہیں ہے ، میری تعلیم اور تربیت کی طرف بھی توجہ دی ہے۔میری روحانی بہتری کی طرف بھی توجہ دی ہے۔میری اخلاقی تربیت کی طرف بھی توجہ دی ہے۔میری دنیاوی تعلیم کی طرف بھی توجہ دی ہے تا کہ میں معاشرے کا ایک فعال حصہ بن جاؤں۔لیکن جن گھروں میں، عورتوں کی طرف سے بھی، 242