عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 18 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 18

عائلی مسائل اور ان کا حل ہیں، بجائے اس کے کہ بچہ باہر سے سیکھ کر آئے۔ایک دوسرے کے ماں باپ، بہن بھائی سے پیار و محبت کا تعلق رکھیں۔ان کے حقوق ادا کریں اور یہ صرف عورتوں ہی کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ مردوں کی بھی ذمہ داری ہے اور اس طرح جو معاشرہ قائم ہو گا وہ پیار و محبت اور رواداری کا معاشرہ قائم ہو گا۔اس میں لڑ بھڑ کر حقوق لینے کا سوال ہی نہیں ہے۔تو اس میں ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ ہو گی۔ہر عورت ہر مرد ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کے لئے قربانی کی کوشش کر رہا ہو گا “۔(جلسہ سالانہ جرمنی 23 اگست 2003 خطاب از مستورات مطبوعه الفضل انٹر نیشنل 18 نومبر 2005ء) شادی مرد اور عورت کے درمیان معاہدہ 23 جولائی 2011ء کو جلسہ سالانہ کے موقع پر حضور انور کے خطاب سے قبل تلاوت قرآن کریم میں جن آیات کریمہ کا انتخاب حضور انور نے فرمایا تھا، وہ وہی آیات تھیں جو اعلان نکاح کے موقع پر پڑھی جاتی ہیں۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بعد ازاں اپنے خطاب میں ارشاد فرمایا: ” میاں بیوی کے رشتے میں منسلک ہونے کے بعد ایک اکائی بن جاتے ہیں۔یہی وہ رشتہ اور جوڑ ہے جس سے آگے نسل چلتی ہے۔اگر اس اکائی میں تقویٰ نہ ہو، اس جوڑے میں تقویٰ نہ ہو تو پھر آئندہ نسل کے تقویٰ کی بھی ضمانت نہیں اور معاشرے کے اعلیٰ اخلاق اور تقویٰ کی بھی ضمانت نہیں، کیونکہ ایک سے دو اور دو سے چار بن کے ہی معاشرہ بنتا ہے“۔18