عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 178 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 178

عائلی مسائل اور ان کا حل نہیں ہے۔اس طرح آپ اپنی ذاتی دلچسپی کی وجہ سے قرآن کو بد نام نہ کریں۔گھر یلوزندگی کے بارے میں حضرت عائشہ صدیقہ کی گواہی یہ ہے کہ نبی کریم مالی اعلم تمام لوگوں سے زیادہ نرم خو تھے اور سب سے زیادہ کریم، عام آدمیوں کی طرح بلا تکلف گھر میں رہنے والے، آپ نے کبھی تیوری نہیں چڑھائی، ہمیشہ مسکراتے رہتے تھے۔نیز آپ فرماتی ہیں کہ اپنی ساری زندگی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھایانہ کبھی خادم کو مارا۔خادم کو بھی کبھی کچھ نہیں کہا۔(شمائل ترمذی باب ما جاء فی خلق رسول اللہ ) (خطبہ جمعہ فرمودہ 2/ جولائی 2004ء بمقام انٹر نیشنل سنٹر ، مسی ساگا، کینیڈل مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 16 جولائی 2004ء) ہر فرد راعی ہے ایک معروف حدیث کے حوالہ سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک خطبہ جمعہ میں گھر کے ہر فرد کے راعی ہونے سے متعلق اہم نصائح فرمائیں۔چنانچہ مردوں کے گھر میں سر براہ ہونے کی حیثیت سے دیگر افراد خانہ کی نگرانی سے متعلق حضور انور نے ارشاد فرمایا: ”حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ : تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور ہر ایک سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں دریافت کیا جائے گا۔امام نگران ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں دریافت کیا 178