عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 177
عائلی مسائل اور ان کا حل نصیحت فرمائی کہ عورتوں کو ان کا حق دو۔رشتہ داروں کو ان کا حق دو۔بچوں کو ان کا حق دو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی سختی سے اس حرکت کو ناپسند فرمایا ہے کہ بیٹھ کے پھر بعد میں کمپیں ماری جائیں اور عورت کو چھوڑ دیا جائے“۔(جلسہ سالانہ یو کے خطاب از مستورات فرمودہ 26 جولائی 2008ء۔مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 15 / اپریل 2011ء) مردوں کے رویے اور ان کو نصائح مردوں کے نامناسب رویوں کی نشاندہی کرتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے ایک خطبہ جمعہ میں ارشاد فرماتے ہیں: بعض ایسی شکایات بھی آتی ہیں کہ ایک شخص گھر میں کرسی پہ بیٹھا اخبار پڑھ رہا ہے، پیاس لگی تو بیوی کو آواز دی کہ فریج میں سے پانی یا جوس نکال کر مجھے پلا دو۔حالانکہ قریب ہی فریج پڑا ہوا ہے خود نکال کر پی سکتے ہیں اور اگر بیوی بیچاری اپنے کام کی وجہ سے یا مصروفیت کی وجہ سے یا کسی وجہ سے لیٹ ہو گئی تو پھر اس پر گر جنا، برسنا شروع کر دیا۔تو ایک طرف تو یہ دعویٰ ہے کہ ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے اور دوسری طرف عمل کیا ہے، ادنی سے اخلاق کا بھی مظاہرہ نہیں کرتے اور کئی ایسی مثالیں آتی ہیں جو پوچھو تو جواب ہوتا ہے کہ ہمیں تو قرآن میں اجازت ہے عورت کو سرزنش کرنے کی۔تو واضح ہو کہ قرآن میں اس طرح کی کوئی ایسی اجازت 177