تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 37 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 37

۳۷ ابطال الوہیت مسیح معجزے دکھائے تو اسی قسم کے نشانات حضرت موسیٰ اور ایلیا اور الیشع وغیرہ نے بھی دکھلائے مسیح کی ۷ تھی اور وہ دونوں کھاتے پیتے تھے۔ہاں خدا ہونے کی دلیل چاہیے قرآن نے بھی کہا ہے تمہارے پاس کوئی دلیل مسیح کے خدا ہونے پر نہیں تو پھر کیوں مدعی الوہیت مسیح ہوئے ہو چنانچہ آیت بالا کے مضمون سے واضح ہے جس طرح حضرت مسیح علیہ السلام کے خدا ہونے کا ابطال کیا ہے ایسے ہی حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کے ابن اللہ ، خدا کے بیٹا بنانے کے بُرے عقیدہ کو اس طرح باطل ٹھہراتا ہے آتى يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُنْ لَهُ صَاحِبَةٌ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ذَلِكُمُ اللهُ رَبُّكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوهُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلُ لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَ هُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ سِ س انعام ع ۱۸۔اس کے کہاں سے بیٹا ہوا اُس کا تو کوئی ساتھی نہیں اُس نے سب چیزوں کو پیدا کیا۔اور وہ کل چیزوں کو جانے والا ہے۔یہی تمہارا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں کل اشیا کا خالق ہے اس کی عبادت کرو اور وہ سب کا کارساز ہے۔اسے آنکھیں نہیں پاسکتیں یا آنکھیں گھیر نہیں سکتیں اور وہ آنکھوں کو پاتا یا ان کا احاطہ کر سکتا ہے اور وہ لطیف و خبیر ہے۔گویا قرآن کریم کہتا ہے صحیح ابن اللہ کن معنوں پر ہیں آیا عرفی اور حقیقی معنوں پر مسیح ولد اللہ یا کسی اور معنوں پر۔اگر عرفی اور حقیقی معنوں میں ہیں یہ تو صحیح نہیں کیونکہ اس صورت میں سیدہ مریم علیہا السلام کو خدا کی جورواور اس کا ساتھی ماننا ضروری اور لازمی امر ہے۔اور تمام عیسائی اور سارے عقلاء سیدہ صدیقہ مریم کا اللہ تعالیٰ کا صاحبہ ہونا اعتقاد نہیں رکھتے اگر مجازی معنی ولد اللہ ، ابن اللہ کے لیتے ہو اور حقیقی اور عرفی معنی نہیں لیتے ہو تو مجازی معنی نہایت وسیع ہیں ولد اللہ کے معنی خدائے مجسم خدا کے ساتھ ذاتاً متحد ہستی تجویز کرنا ہر گز ہر گز صحیح نہیں کیونکہ اگر یہ معنی لو گے اور مسیح کو اللہ اور اللہ کا بیٹا کہو گے تو ضرور ہر ایک شخص کی شہرت کبھی اُس کے نامی گرامی والد کے باعث ہوا کرتی ہے اور کبھی اُس کی والدہ ماجدہ کے باعث اور کبھی اُس کے ذاتی جو ہروں کی وجہ سے۔حضرت سیدنا مسیح علیہ السلام کی والدہ ماجدہ یروشلم میں بطور نذرا نہ رکھی گئیں۔وہاں اپنی خالہ زکریا کی بی بی کے پاس پرورش پائی۔تمام یہودی قوم ہر سال یروشلم میں آتی اور صدیقہ مریم علیہا السلام کو وہاں دیکھتی اس لئے اُن کی ان سے اچھی واقفیت تھی۔حضرت سیدنا مسیح علیہ السلام کو ابن مریم کہتی۔الانعام : ۱۰۲ تا ۱۰۴