تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 20
ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات ۲۰ اور سائل کے سوال کا تیسرا حصہ یہ ہے اور یہ نہ کہتے کہ سورج چشمہ دلدل میں چھپتا ہے یا غرق ہوتا ہے حالانکہ سورج زمین سے نو کروڑ ھے بڑا ہے وہ کس طرح دلدل میں چھپ سکتا ہے۔الجواب سائل صاحب ! تمام قرآن کریم میں کہیں نہیں لکھا کہ سورج چشمہ دلدل میں چھپتا یا غرق ہوتا ہے پادریوں کو مدت سے یہ دھوکا لگا ہے کہ قرآن میں ایسا لکھا ہے حالانکہ قرآن میں نہیں لکھا۔بات یہ ہے کہ اس ذوالقرنین کا قصہ جس کا ذکر دانیال نبی کی کتاب ۸ باب ۴ میں ہے قرآن کریم نے ایک جگہ بیان فرمایا ہے اور اس میں کہا ہے جب وہ مید اور فارس کا بادشاہ اپنے فتوحات کرتا ہو ابلا دشام کے مغرب کو پہنچا تو اس خاص زمین کے مغرب میں ایک جگہ سورج دلدل میں ڈوبتا ذوالقرنین کو معلوم ہوا۔غالبا جب ذوالقرنین بلیک سی و بحیرہ اسود یا ڈینیوب کے کنارے پہنچا تو اس وقت ذوالقرنین کو اس نظارہ کا موقع ملا۔۔ہم نے مانا کہ سورج زمین سے بہت بڑا ہے لا کن چونکہ ہم سے بہت ہی دور ہے اس واسطے ہم کو چھوٹا سا دکھائی دیتا ہے اور زمین چونکہ کروی الشکل ہے اس واسطے غروب کے وقت ہم کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ زمین کے فلاں حصہ یا پہاڑ کے فلانے چوٹی کے پیچھے یا ناظر کے افق کے فلاں درخت کے پیچھے یا اگر ہمارے مغرب میں پانی اور دلدل ہو جیسے ذوالقرین کو موقع لگا تو ہم کو مغرب کے وقت سورج اس پانی اور دلدل میں غروب ہوتا ہوا معلوم دے گا۔تیسرے سوال کا جواب پہلا جواب۔جن آیات کریمہ کا سائل نے حوالہ دیا ہے اور ان سے استدلال کیا ہے که حضور بادی اسلام سے کوئی معجز و ظہور پذیر نہیں ہوا۔ان میں معجزہ کا لفظ بالکل موجود نہیں۔۲۰