تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 142
یا درکھا جاوے ۱۴۲ مبادى الصرف و النحو خِلَاصَةٌ تُحفَظُ ا۔الف - با - تا - تا - جیم - حا۔وغیرہ سے لفظ بنتے ہیں اور الفاظ کی تین قسمیں ہیں۔۔۱۔فعل جیسے عَلِمَ ، يَعْلَمُ ، إِعْلَمُ - كَتَبَ، يَكْتُبُ، أَكتُبْ وغيره -۲- اسم جیسے اللهُ مَلَكَ كِتَابٌ رَسُولُ مُحَمَّدٌ أَحْمَدُ جَزَاءُ ۳۔حرف جیسے هَلْ لَهُ فِي ۳۔فعل کی تین قسمیں ہیں ماضی جیسے امن مضارع يَأْمَنُ امر جیسے امن ۴۔الفاظ مفردہ سے جو کلام بنتا ہے اس کو جملہ مفیدہ کہتے ہیں۔۵۔جس اسم اور فعل کا آخر کسی عامل سے نہ بدلے اس کو مبنی اور جس کا آخر عامل سے بدلے اس کو معرب کہتے ہیں۔مبنی کے آخر کبھی سکون ہوتا ہے جیسے اغلَمُ لَم مَن یاسمہ ہوتا ہے جیسے۔حَيْثُ عَوْضُ یاز بر ہوتا ہے جیسے نصر - این ـ یا کسرہ ہوتا ہے جیسے نَزَالِ حَضَارِ بَاء جَاره تمام حروف اور مضارع کے سوا تمام افعال مبنی ہوتے ہیں۔اسماء میں مبنی ضمائر ہیں جیسے آنا، أنت، هُوَ اور اسمائے موصولہ جیسے الَّذِى الَّتِي، أُولَئِكَ اسمائے اشاره هَذَا هَذِهِ، تَا، تِه، ذَالِكَ، تِلْكَ - اسمائے شرط مَنْ مَهُمَا اور جن الفاظ کا آخر بدل جاتا ہے ان میں افعال کے آخر گا ہے۔پیش جس کو ضمہ رفع کہتے ہیں ہوتا ہے جیسے يُؤْمِنُ ، يُكرم اور کبھی فتہ جس کو نصب اور زبر کہتے ہیں جیسے امن ، آمن ، علیم اور کبھی جزم جس کو سکون کہتے ہیں جیسے انگر، اگر ھم۔اور اسم کے آخر رفع ، نصب ، جبر اور سکون ہوتا ہے جیسے اَلْحَمْدُ لِلَّهِ - اَلْقِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ، مِنْ عَنْ فعل کے پہلے جب آن - لن - اذا گئی ہو تو فعل کا آخر منصوب ہوگا اور جب لخر - لیا۔۲۸