تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 69 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 69

۶۹ رو شخ فوز الكبير في اصول التفسیر راحت بخش دل مضطر ہوئے اس میں مصنف علامہ نے صرف پانچ آیتیں منسوخ مانی ہیں۔میں نے ان پانچ مقام کی تحقیق تفاسیر سے کی تو ان پانچ مقامات کا منسوخ ما ننانفس الامر کے مطابق نہ پایا۔فقرہ چہارم :- عزیز من ایمان اور انصاف کا مقتضی ہے۔اگر ہم دو احکام شرعیہ کو متعارض دیکھیں تو بحکم وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللهِ لَوَجَدُوا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا کے ہم ضرور یقین کریں کہ یہ تعارض ہمارے فہم کی غلطی ہے۔اگر تطبیق دو آیتوں یا حدیثوں کی ہمیں نہیں آئی تو اللہ کے ہزاروں ایسے بندے ہوں گے جو تطبیق دے سکتے ہوں گے۔ہم بڑے نادان ہیں اگر اپنی کمزوریوں کو نہیں سمجھتے۔بڑی غلطی پر ہیں اگر اس فیض الہی کے منتظر نہ ہیں جس کے ذریعہ تطبیق حاصل ہو۔بڑی نا امیدی ہے اگر قبض کی حالت میں بسط کا انتظار نہ ہو۔صاف دھوکہ ہے اگر فوق کل ذی علم علیم ہمیں بھول جائے۔فقره پنجم : فوز الکبیر میں لکھا ہے۔شیخ جلال الدین سیوطی در کتاب اتقان بعد ازاں کہ از بعض علماء آنچه مذکور شد به بسط لائق تقریر نمود و آنچه بر رائے متاخرین منسوخ است بر وفق ابن العربی محور کرده قریب بست آیت شمرده - فقیر را در اکثر آن بست آیت نظر است فلورد كلامه مع التعقب - فمن البقرة كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرَ الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ - الآية منسوخة قيـل بــاية مواريث وقيل لحديث لاوصية لوارث وقيل بالا جماع حكاه ابن العربی اس پر مؤلّف علامہ کہتا ہے کہ یہ آیت آیت یوصیکم اللہ سے منسوخ ہے اور لا وصية لوارث کی حدیث اس نسخ کو ظاہر کرتی ہے۔فقیر کہتا ہے یہ آیت منسوخ نہیں کیونکہ کتب۔آہ۔کے معنے ہیں لکھی گئی تم پر جب آجاوے ایک کو تم میں سے موت۔اگر چھوڑے مال - الوصية ماں باپ اور نزدیکیوں کے لئے اور ظاہر ہے کہ جب موت حاضر ہوگئی تو آدمی مر گیا۔ان ترك کا لفظ وجودموت پر قرینہ ہے۔اس آیہ شریفہ سے النساء:۸۳ البقرة: ١٨١ النساء:۱۲