تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 95
۹۵ دینیات کا پہلا رسالہ اذان نماز کے پانچوں وقت مسجد میں اذان کہی جاتی ہے۔اذان کہنے والے کو مؤذن کہتے ہیں۔مؤذن منہ قبلہ کی طرف کرے اور کانوں میں شہادت کی انگلی رکھے اور بلند آواز سے کہے اللهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُه أَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا ه رَّسُولُ اللهِ و اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ ٥ اس کے بعد منہ دائیں طرف کر کے یہ کہے حَيَّ عَلَى الصَّلوةِ حَيَّ عَلَى الصَّلوةِ 0 پھر بائیں طرف منہ کر کے یہ کہے۔حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ اس کے بعد پھر قبلہ کی طرف منہ کرے اور یہ کہے اللهُ اَكْبَرُه اللهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ صبح کی نماز میں حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ کے بعد الصَّلوةُ خَيْرٌ مِّنَ النَّوْمِ دودفعہ ہے۔مسجد کے باہر بھی جماعت کے ساتھ نماز پڑھنی ہو تو پہلے اذان پڑھ لینی چاہیے۔جب اذان کہی جاوے تو کھیل کو د کام کاج اور بات چیت کو چھوڑ کر اسے پوری توجہ سے سنو اور جو لفظ اذان دینے والا کہے وہ تم بھی آہستگی سے کہتے جاؤ مگر جب حَيَّ عَلَى الصَّلوۃ اور حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ کہے تو تم کہو لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ۔اذان کہے جانے کے بعد یہ دعا پڑھو اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُوْلُهُ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّ عَلَى الِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكُ وَسَلَّمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ اَللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَ الصَّلوةِ الْقَائِمَةِ اتِ مُحَمَّدًا وَالْوَسِيْلَةَ وَالْفَضِيْلَةَ وَالدَّرَجَةَ الرَّفِيعَةَ وَابْعَثُهُ مَقَامًا مَّحْمُودَا الَّذِى وَعَدْتَهُ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ پھر نماز جماعت سے پڑھو جائز ہے کہ لڑکیاں اور عورتیں گھر میں نماز پڑھ لیں اور جماعت کر لیں۔ے دونوں شہادتوں کو ختم کر کے پھر دُہرانا بھی احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔