تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 84 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 84

تو شیخ ۸۴ دیکھو خضر بظاہر ملزم تھے الا اصل اسباب پر جب اطلاع ہوئی تو معلوم ہوا کہ بالکل بری ہیں۔پھر تم جانتے ہو کہ اجتہادی غلطیاں اجر کا موجب بھی ہوتی ہیں مشورہ۔اگر عیب ہے تو وَشَاوِرُهُمْ میں تامل کیجئے۔سنو سنو نہایت کا کمال چاہئے۔ہدایت کا نقصان کچھ ضرر نہیں دے سکتا۔سلف کا کیسا سچا فقرہ ہے۔ان الذنوب قد يوصل الجنة والعبادة قد تدخل النار کیا معنے۔معاصی سے کبھی تو بہ کی راہ کھل جاتی ہے اور عبادت سے کبھی انسان کبر اور عجب میں مبتلا ہوکر بالکل تباہ ہو جاتا ہے۔امام کا اگر معصوم ہونا اس لئے شرط ہے کہ لوگوں کی اصلاح ہو۔عام لوگ غلطی میں مبتلا نہ ہوں تو آپ جانتے ہیں صرف امام کی عصمت سے یہ فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا اس لئے کہ امام کے اہلکار اور اس کے ملکوں پر چھوڑے ہوئے حکام نہ معصوم ہونے ضرور ہیں اور نہ ان کا منصوص ہونا شرط ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور جناب امیر کے نواب اور عمال ہی کو دیکھ لو۔پس مناط حکم میں ان سے غلطی کا وقوع ممکن ہے اور آپ جانتے ہیں کہ اکثر لوگ امام تک نہیں پہنچ سکتے کل کا پہنچنا کیونکر ہوسکتا ہے۔اور آپ جانتے ہیں کہ صرف امام کی عصمت سے جب تک اس کا تسلط نہ ہو اور ظاہری حکم نہ ہولوگوں کو فائدہ کیونکر ہو سکتا ہے۔صاحب الزمان علیہ السلام کی حالت ملاحظہ کرو۔آپ جانتے ہیں که شخصی معاملات اور منزلی انتظامات کے واسطے ہر ہر شخص کو ہر وقت کے جزئیات کے لئے امام سے رجوع کرنا صریح محال ہے اگر کلیات سے جزئیات لے گا تو ضرور ہی اجتہاد میں غلطی کرے گا پس جس غرض پر عصمت اور امامت کو شیعہ امامیہ ثابت کرتے ہیں صرف اسی سے دنیا میں اصلاح کا قائم ہونا معلوم کیا معنے۔اگر باری تعالیٰ اصلاح چاہتے تھے تو بقول آپ کے باری تعالیٰ پر واجب تھا کہ امام کو تسلط دیتے۔دوسری بات جس کو فروگذاشت کیا ہے یہ ہے کہ مہاجرین کے حق میں لَا كَفْرَنَّ عَنْهُمْ سَيَاتِهِمْ وَ لَأُدْخِلَنَّهُمُ جَنَّتٍ تَجْرِى - قرآن میں موجود ہے۔بھلا جن لوگوں کی نسبت کفارہ اور جنت میں لے جانے کا وعدہ ہو وہ ابدی سزا پائیں۔واللہ عقل نہیں مانتی۔سنوسنو سنو مكفرات ذنوب بہت ہیں۔اول خالص تو بہ۔دوم استغفار۔سیوم اعمال صالحہ۔چہارم مومن کی دعا۔آل عمران : ۱۹۶ ۲۰