تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 83
رد شخ ۸۳ دوسرا خط ایک شیعہ دوست کے نام ہے۔ابواسامہ نورالدین سے اس کے دوست ( ع۔وح) کو السلام علیکم دیں ایک ایسی تسلی ہے جو اکراہ کا ثمرہ نہیں ہوسکتا تیرہ سو برس کے جھگڑے ایک خط میں طے ہوں محال اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ بہت پڑھنا جمعیت اور طمانیت کا موجب ہے۔میرا حال پوچھتے ہو میں کس مشرب کا ہوں۔سنو۔ابتدا تمیز سے اس وقت تک قرآن کریم واہل حدیث کی جماعت میں شامل ہوں وارجو من الله ان اموت واحشر في حبّهم انشاء اللہ تعالیٰ یہ وہ لوگ ہیں جن کی وساطت سے اللہ تعالیٰ کے قرب کی راہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال۔افعال اور احوال پر واقف ہوئے۔یہی ہیں جنہوں نے قدریہ جہمیہ شیعہ خوارج سے حفظ اور عدالت کو دیکھ کر روایت لینے میں بے جا تعجب نہیں کیا۔روایت میں جب صحت کی راہ دیکھی پھر اخذ روایت میں ہٹ دھرمی نہیں کی۔اس حزب الہی کی عمدہ کتاب بعد کتاب اللہ بخاری کی صحیح ہے۔شیعہ کے ایک ممتاز متکلم نے استقصاء میں اس کتاب اور اس کے مصنف پر قدح کرنے میں بڑے زور لگائے آلا اُس خیر خواہ اسلام پر جھوٹ اور بہتان کا الزام نہیں لگا سکا اُس کی کسی رائے پر اگر جرح کی ہے تو یہ ثابت نہیں کر سکا کہ بخاری ایسے راوی کی روایت کو شواہد میں نہیں لایا بلکہ اصل مسئلہ کے اثبات میں لایا ہے یا اس روایت کو بخاری بدون معاضد چھوڑ گیا۔پھر آپ جانتے ہیں صراف تو کھوٹا کھرا پہچان سکتا ہے۔آپ نے تشہید المطاعن کی چار جلدیں میرے مطالعہ کے لئے مرحمت فرمائیں۔آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔میں نے کتاب کو بغور دیکھا سچ کہتا ہوں کہ علامہ مصنف نے صرف نکتہ چینیوں پر وقت صرف کیا ہے اور کئی ضروری باتوں پر توجہ نہیں فرمائی۔مثلاً سوچو کہ قرآن کریم میں آدم علیہ السلام جیسے خلیفہ کو عصی کا فاعل اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے اور حضرت خاتم الانبیاء امام الاصفیا صلی اللہ علیہ وسلم کو اسْتَغْفِرُ لِذَنبك کا مخاطب کیا۔حضرت کلیم کے ایک اقرار کو آنا مِنَ الضَّالِّينَ کے الفاظ سے بیان کیا۔مومن ہمیشہ ان الفاظ کی توجیہات کرتے ہیں اور ان الفاظ کوسن کر انبیا کی عصمت میں شک نہیں کرتے اور کوئی مسلمان وہم بھی نہیں کرتا کہ یہ حضرات خلافت عظمیٰ اور امامت کبرای کے قابل نہ تھے یا عصیان یا ذنب یا ضلالت کے سبب معزول ہو گئے۔موسیٰ اور خضر کا قصہ قرآن میں موجود ہے وہاں ۱۹