تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 75 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 75

۷۵ رو شخ کے ساتھ۔نہیں کو دوسو کے ساتھ۔سو کو ہزار کے ساتھ مقابلہ کرنا پڑے گا اور اب تو اس پہلی بار میں اللہ نے تخفیف کی تمہارا مقابلہ اگر دو چند سے ہوا تو کامیاب رہو گے۔الآن اور عَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَغفال صاف تفرقہ کی دلیل ہے۔پندرہویں آیت:- "اِنْفِرُوا خِفَافًا وَ ثِقَالًا الخـ منسوخة باية العذر وهو قوله " لَيْسَ عَلَى الْأَعْلَى حَرَجٌ ، وقوله " لَيْسَ عَلَى الضُّعَفَاءِ ، فوز الکبیر میں کہا ہے خفافا کے معنے ہیں کہ نہایت تھوڑے جہاد کے سامان ( جیسے ایک سواری ایک نوکر اور معمولی زادراہ) سے بھی لڑائی کرو۔اور ثقالا کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے نوکر اور سواریاں اور زادراہ تمہارے پاس ہو۔سولہویں آیت : "الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً منسوخة بـقـولــه وَانْكِحُوا الأيامى مِنْكُمُ ، فوز الکبیر میں ہے امام احمد ظاہر آیت پر حکم کرتے تھے۔اور امام احمد کے سوا اور لوگوں نے کہا کہ کبیرہ کا مرتکب زانیہ ہی کا کفو ہے یا یہ کہ زانیہ کا نکاح پسند کرنا اچھی بات نہیں بلکہ آیت شریف میں حُرِّمَ ذَلِک کا اشارہ زنا اور شرک کی طرف ہے پس نسخ نہ ہوئی یا فانکحو الا یامی عام ہے اور عام کا ناسخ خاص کو کہنا اجماعی نہیں۔ستارہویں آیت: "لِيَسْتَأْذِنُكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ، بعض اسے منسوخ کہتے ہیں اور بعض منسوخ نہیں کہتے مگر لوگوں نے اس پر عمل کرنے میں سنتی کی ہے۔فوز الکبیر میں ہے ابن عباس کہتے تھے منسوخ نہیں اور یہی وجہ اعتماد کے لائق ہے۔اٹھارویں آیت : "لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِنْ بَعْدُ، الآية منسوخة بقوله انا احللنا لك قلت تحمل ان يكون الناس مقدماً في التلاوة وهو الا ظهر۔میں کہتا ہوں بعد کا مضاف اليه الـجـنـاس التي مرذكرها في قوله انا احللنا الآیۃ۔پس معنے آیت کے یہ ہوں گے کہ اے نبی تجھے حلال نہیں عورتیں ان چار قسم کے سوا ( تری بیبیاں اور مملوکہ اور بنات عم، بنات الانفال: ۶۷ النور: ۴ التوبه ام النور : ٦٢ النور : ٣٣ ك النور: ۵۹ التوبه: ۹۱ الاحزاب : ۵۳ "