تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 70 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 70

رد شخ صاف معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص مال چھوڑ مرے تو اس کے حق میں کوئی وصیت لکھی گئی ہے۔جب ہم نے قرآن کریم میں جستجو کی تو اس میں پایا یوصیکم اللہ فی اولادکم آہ معلوم ہوا کہ والدین اور رشتہ داروں کے حق میں یہ وصیت الہیہ لکھی ہوئی ہے والقــرآن يـفـســر بـعـضـه بعضا اور اسی وصیت پر عمل کا کتب علیکم والی آیت میں حکم ہے۔پس یہ آیت کتب علیکم اور آیت یوصيكم الله آپس میں متعارض نہ ہوئیں بلکہ ایک دوسرے کی جو ٹھہریں اور لا وصية لوارث والی حدیث بھی معارض نہ رہی کیونکہ بلحاظ حدیث یہ حکم ہے کہ یـوصـیـکـم اللہ میں وارثوں کے حقوق مقرر ہو چکے ہیں۔اور شارع نے اُن کے حصص بیان کر دیئے ہیں۔اب وارث کے لئے وصیت نہیں رہی۔ہاں وارثوں کے سوا اور لوگوں کے حق میں وصیت ہو تو ممنوع نہیں۔آگے کی آیت میں حکم ہے جس نے بدلا وصیت کو سننے کے بعد ضرور اس کا گناہ بدلنے والوں پر ہوا اور اللہ ہی سننے والا اور جاننے والا ہے۔( کیوں نہ ہو خدائی وصیت کا بدلنا مسلمان کا کام نہیں۔) اور آیت فَمَنُ خَافَ مِنْ مُّوْصِ جنا کا ترجمہ ہے جس کو ڈر ہو کہ کسی موصی نے کجی کی یا گناہ کیا پس اُس نے سنوار دیا تو اُسے گناہ نہیں تحقیق اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ظاہر ہے جس موصی نے خدائی وصیت کے خلاف کیا اُس نے بے شک کبھی کی اس کے سنوارنے والے کو کوئی گناہ نہیں اور ہوسکتا ہے کہ موصی سے وہ وصیت والا مرد ہو جس نے ثلث سے زیادہ وصیت کی یا ثلث میں یا ثلث کے اندر کسی برے کام پر اور بری طرز پر روپیہ لگا دینے کی وصیت کی اور آیات یوصيكم میں من بعد وصية بدول تقيد مذکور ہے اس لئے یہاں بتا دیا کہ کبھی اور بدی کی سنوار معاف ہے اس سنوار نے پر کوئی جرم نہیں اگر اُس نے اس موصی کی وصیت میں اصلاح کی اور اس میں ایما ہے کہ اصلاح کے وقت غلطی بھی ہو جاتی ہے الا اُن کی معافی ہے۔دوسری وجہ آیت منسوخ نہ ہونے کی الوالدین اور الاقربین یہاں معترف بالسلام ہیں۔پس کہتے ہیں کہ یہاں خاص والدین اور اقارب کا ذکر ہے اور چونکہ آیت یوصیکم اللہ میں اکثر وارثوں کے حق بیان ہو چکے ہیں اور حدیث لا وصية لوارث میں وارثین کے حق میں وصیت کرنے کی ممانعت آچکی ہے اس لئے الوالدین اور الاقربین سے وہ ماں باپ اور رشتہ دار مراد ہیں جو وارث