تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 59
☆ ۵۹ ابطال الوہیت مسیح پ ۲۳ ۹۶۔اور وہ جن کو دی ہم نے کتاب وہ جانتے ہیں بے شک یہ قرآن تیرے رب کی طرف سے اُتارا گیا۔کامل صداقت اور حکمت کے ساتھ پس نہ ہوگا تو او مخاطب یا نہ ہو جیو تو او مخاطب متردد اور پورا ہے کلام تیرے رب کا سچائی اور انصاف میں کوئی بھی نہیں جو اس کے کلاموں کو بدلا وے اور وہ سنتا جانتا ہے اور فرمایا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا السُّفْلَى وَكَلِمَةُ اللهِ هِيَ الْعُلْيَا اور زیر کر دیا اللہ تعالیٰ نے کافروں کی بات کو اور زبردست اور پکی ہیں اللہ کی باتیں۔کتب عہد عتیق و جدید میں بھی کلمة اللہ کے معنے کلام خدا اور حکم خدا آئے ہیں۔ستو! بكلمة الرب ثبت السموات وبروح فيه جميع جنودها زبور۳۳-۶۔خداوند کے کلام سے آسمان بنے اور اُن کے سارے لشکر اُس کے منہ کے دم سے۔فـلـمـا كـان في تلك الليلة حلّت كلمة الله على ناثان النبی اخبار الایام کی پہلی کتاب ۷ ا باب ۳۔اُسی رات کو ایسا اتفاق ہوا کہ خداوند کا کلام ناثان نبی کو پہنچا۔حلت كلمة الرب على يوحنا بن ذكريا في البرية۔لوقا ۳ باب ۲۔خدا کا کلام بیابان میں بیچی زکریا کے بیٹے کو پہنچا تر جمہ ۴۰ ۴۴۔اسی طرح کے بہت محاورات کتب سابقہ میں موجود ہیں اگر کوئی چیز کلمۃ اللہ ہونے سے عین اللہ ہوسکتی ہے تو تمام وہ تامہ جملے جو انبیا علیہم السلام اور ان کے پاک اتباع کو مکالمہ الہیہ اور مخاطبہ ربانیہ سے پہنچے چاہئے کہ وہ سب خدا ہوں۔اعاذنا اللہ اصل یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت آپ کی والدہ صدیقہ مریم علیہا السلام کو آپ کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے بشارت کا کلمہ اور آپ کے پیدا ہونے کی خبر دی تھی یا اس لئے کہ آپ خاص حکم الہی سے صدیقہ مریم کو عطا ہوئے آپ کو کلمہ فرمایا۔اب ہم اس گفتگو کو ایک قرآنی رکوع کے بیان پر ختم کرتے ہیں۔إِذْ قَالَ اللهُ يُعِيسَى إِنِّى مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَى وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِمَةِ ثُمَّ إِلَى مَرْجِعُكُمْ فَاحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ۔فَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَأَعَذِبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ وَ مَالَهُمْ مِنْ نُّصِرِينَ۔وَأَمَّا الَّذِينَ در ہماں شب چنان اتفاق افتاد که کلام خداوند به نا خان نبی رسید ۲۷