تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 58 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 58

۵۸ ابطال الوہیت مسیح سے آدمی زندہ ہوتا ہے۔” جب میں تمہاری قبروں کو کھولوں گا اور تم کو تمہاری قبروں سے نکالوں گا تب تم جانو گے کہ خداوند میں ہوں۔جب میں اپنی روح تم میں رکھوں گا اور تم جیو گے۔حز قیل ۳۷ باب ۱۴۔کلام الہی کے معنے۔خدا وند کی روح اس دن سے ہمیشہ داؤ د پر اتر تی رہی۔ا سموئیل ۱۶ باب ۱۳ بلکہ بڑی روحوں کو بھی خدا کی روح کہا ہے۔جیسے لکھا ہے پر خداوند کی روح ساؤل پر سے چلی گئی اور خداوند کی طرف سے ایک بری روح اسے ستانے لگی۔اسموئیل ۶ ا باب ۱۴۔رہی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ نے یا یوں کہیے کہ قرآن نے حضرت مسیح علیہ السلام کو اپنی روح فرمایا۔سو جیسے بیان ہو چکا اتنے امر سے حضرت مسیح کا خدا ہونا ثابت نہیں ہوسکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اور قرآن مجید نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو اور انسانی سانس کو بھی اپنی روح فرمایا ہے۔بات یہ ہے کہ تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی ہی مخلوق ہے۔چونکہ حضرت مسیح علیہ السلام اس کے خاص بندے اور اس کے کلام کے پہنچانے والے تھے اس واسطے ان کو اپنی روح فرمایا۔ایسی اضافتیں ہر زبان میں عزت کے لئے ہوا کرتی ہیں جیسے حضرت صالح کی اونٹنی کو قرآن کریم نَاقَةُ اللهِ۔اللہ تعالیٰ کی اونٹنی فرماتا ہے اور اچھے بندوں کو عباد اللہ یعنی اپنے بندے فرماتا ہے۔مسیح علیہ السلام کی الوہیت پر جس قدر دلائل میں نے سنے ہیں ان سب سے تعجب انگیز وہ دلیل ہے جو قرآنی لفظ كَلِمَةٌ سے عیسائیوں نے ماخذ کی ہے۔عیسائی کہتے ہیں جب حضرت مسیح علیہ السلام خدا کا کلمہ ہوئے تو خدا ہی ہوئے۔الجواب: اگر قرآنی محاورہ سے کسی چیز کا کلمۃ اللہ ہونا اس چیز کے خدا ہونے کی دلیل ہے تو تمام کلمات الہیہ کو چاہئے کہ خدا ہوں مثلاً قرآن مجید میں وارد ہے وَ لَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ لے اور ضرور پہلے ہو چکی بات ہماری ہمارے رسول بندوں کی نسبت۔اب اس کی تفسیر سینے کہ وہ کلمہ کیسا ہے اِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنْصُورُونَ وَ إِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الغَلِبُونَ۔بے ریب (وہی اللہ کے رسول ) ضرور اللہ تعالیٰ کے یہاں سے مدد دیئے گئے ہیں اور بے ریب ہما را ہی لشکر ( رسول اور ان کے بچے اتباع ) ضرور وہی غالب ہیں اور فرمایا وَ الَّذِينَ أتَيْنَهُمُ الكتب يَعْلَمُونَ أَنَّهُ مُنَزِّلُ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبَّكَ صِدْقًا وَ عَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيْمُ = الصفت: ۱۷۲ الصفت: ۱۷۴۱۷۳ ۲۶ الانعام : ۱۱۶،۱۱۵